کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت کے موقع کیا کہا جائے او رکیا میت، زندہ کی بات سنتا ہے؟
حدیث نمبر: 3351
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ لوگ قبرستان کی طرف جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (اے ان گھروں والو مومنو اور مسلمانو!تم پر سلامتی ہو،ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، تم ہم سے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔)
وضاحت:
فوائد: … مرنا تو یقینی ہے، لیکن برکت کے طور پر اور اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کے پیش نظر دعا کے الفاظ میں ’’ان شاء اللہ‘‘ کہا گیا ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3351
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23373»
حدیث نمبر: 3352
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ: ((سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ! وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبرستان میں تشریف لے گئے اور ان کو سلام کہتے ہوئے یہ دعا پڑھی: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔(اس گھر کے صاحب ِ ایمان لوگو! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 249 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7980»
حدیث نمبر: 3353
ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي؟ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي، انْقَلَبَ، فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُّ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى جِئْتُ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُهُ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ: ((مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ! حَشْيَا رَابِيَةً؟))، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَيْءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ))، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: ((فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي؟))، قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ: ((أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟))، قَالَتْ: مَا يَكْتُمُ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ، قَالَ: ((نَعَمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِّ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ جَلَّ وَعَزَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ))، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!؟ فَقَالَ: ((قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک دن محمد بن قیس نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی والدہ سے ایک حدیث بیان نہ کر دوں؟ ہم نے سمجھا کہ اس کی مراد اس کی حقیقی والدہ ہے، پھر انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کروں؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: جب میری رات تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عشاء کے بعد) واپس تشریف لائے، چادر رکھی، جوتے اتار کر پائنتی کی طرف رکھ دیئے اور چادر کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر لیٹے رہے، (میرے خیال کے مطابق) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آرام سے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے اور آہستگی سے اسے بند کر دیا۔ اُدھر میں نے بھی اپنا دوپٹہ سنبھالا، سر پر رکھا، چادر اوڑھی، شلوار پہنی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع قبرستان میں جا پہنچے، وہاں کافی دیر کھڑے رہے اور تین مرتبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے اور میں بھی لوٹنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دوڑے تو میں بھی دوڑنے لگی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید تیز ہو گئے تو میں بھی مزید تیز ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی اور گھر پہنچ کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے، سانس پھولا ہوا ہے، پیٹ اٹھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ باریک بین اور باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، پھرمیں نے سارا واقعہ آپ کو بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے سامنے کالا سا وجود نظر آ رہا تھا، یہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کمر میں مکا مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:لوگ جیسے مرضی چھپا لیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جانتا ہی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،بات یہ تھی کہ جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے آواز دی اور آواز کو تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا، وہ اس وقت تمہارے پاس تو آ نہیں سکتا تھا، کیونکہ تم نے کپڑے وغیرہ ایک طرف رکھے ہوئے تھے، جبکہ میں نے سمجھا تھا تم سو چکی ہو اورتمہیں جگانا بھی مناسب نہ سمجھا، تاکہ تم اکیلی پریشان نہ ہو جاؤ، جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع والوں کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کریں، (اس لیے میں چلا گیا تھا)۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول! میں کیسے دعا پڑھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔ (سلامتی ہو ان گھروں والے مومنوں اور مسلمانوں پر اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے والوں اور بعد والوں پر رحم کرے اور ہم بھی ان شاء اللہ ملنے والے ہیں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 974 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26380»
حدیث نمبر: 3354
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ فَاتَّبَعْتُهُ فَأَتَى الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: ((السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ) وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ))، قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: ((وَيْحَهَا، لَوِ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر چل پڑے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اور بیوی کے پاس جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑی، لیکن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور (یہ دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔(اس گھر والے مومنو! تم پر سلامتی ہو، تم ہم سے آگے ہو اور ہم بھی تم کو ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجرسے محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالنا۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا: یہ ہلاک ہو جائے، اگر اس کو یہ طاقت ہوتی تو یہ کام نہ کرتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3354
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، وعاصم بن عبيد الله العمري قد توبع أخرجه ابوداود، والنسائي: 7/ 75، وابن ماجه: 1546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24425، 24475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24979»
حدیث نمبر: 3355
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((يَا فُلَانُ! يَا فُلَانُ! هَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللَّهِ! إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي))، قَالَ يَحْيَى: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهَلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَاللَّهِ! إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقًّا، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔
وضاحت:
فوائد: اس مسئلہ سے متعلق جو حدیث ِ مبارکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کو ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کے ساتھ آواز دی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ ان جسموں سے کیا گفتگو کر رہے ہیں، جن میں روحیں نہیں ہیں؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3979،3980، 3981، ومسلم: 932 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4864، 4958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4864»