کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
حدیث نمبر: 3343
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِي بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت ، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: بعض لوگوں کے فقرو فاقہ کی بنا پر قربانی کا گوشت تین ایام کے بعد تک ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، اسی طرح شراب کی حرمت کے موقع پر ان برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا: کدو سے بنایا ہوا مٹکا‘ کھجور کے تنے کو کرید کر بنایا ہوا برتن‘ روغن کیا ہوا برتن اورپرانا سبز مٹکا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں امور کی اجازت دے دی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3343
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 278 ورواه ابن ابي شيبة: 8/111 مختصر بلفظ: ((كنت نھيتكم عن ھذه الاوعية، فاشربوا فيھا واجتنبوا ما اسكر۔)) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
حدیث نمبر: 3344
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3344
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 977 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23346»
حدیث نمبر: 3345
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ: ((وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3345
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيحؒ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/ 485 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11606، 11627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11650»
حدیث نمبر: 3346
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3346
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بطرقه و شواهده أخرجه تام و مقطعا ابن ابي شيبة: 3/ 342، 8/ 159، وابويعلي: 3705، 37006، والحاكم: 1/ 376، والبيھقي: 4/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»
حدیث نمبر: 3347
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3347
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9686»