کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3334
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3334
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 437، ومسلم: 530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10727»
حدیث نمبر: 3335
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3335
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7813»
حدیث نمبر: 3336
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَعَنَ (وَفِي لَفْظٍ قَاتَلَ) اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پرلعنت کرے یا ان کو ہلاک کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه الطبراني: 4907، وعبد بن حميد: 244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21940»
حدیث نمبر: 3337
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَكَشَفَ الْقِنَاعَ، ثُمَّ قَالَ: ((لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے صحابہ کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر والا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه الطيالسي: 634، والبزار سي ’’مسنده‘‘: 2609، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 393، 411 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22117»
حدیث نمبر: 3338
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) إِلَّا إِنَّهُ قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَهُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَهُ مَعَافِرِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ وَالنَّصَارَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: جب صحابہ آئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی بنی ہوئی معافری چادر لپیٹی ہوئی تھی، اس روایت میں نصاری کا لفظ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22118»
حدیث نمبر: 3339
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا، اللہ ایسے لوگوں پر لعنت کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
وضاحت:
فوائد: چونکہ یہود و نصاری انبیاء کی تعظیم میں ان کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور نماز میں ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اس طرح انھوں نے ان قبروں کو بت بنا رکھا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بت نہ بن جائے۔ جو لوگ مخصوص ہیئت اور عجزو انکساری کے ساتھ مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف رخ کر کے ذکر و اذکار یا درود و سلام کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو اس قسم کی احادیث کی روشنی میں اپنے کیے سے باز آ جانا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3339
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي أخرجه الحميدي: 1025، وابن سعد: 2/ 241، وابن عبد البر في ’’التمھيد‘‘: 5/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7352»
حدیث نمبر: 3340
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیج دیا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: ’’میری قبر کو عید نہ بنا لینا ‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو میلہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور اس کی زیارت کے لیے ایام و اوقات کو مخصوص نہ کر لیا جائے اور حج و عمرہ یا مسجد ِ حرام اور مسجد ِ نبوی کی طرح کسی سفر کا مقصود اس کی زیارت نہ ہو، وگرنہ یہودو نصاری کے ساتھ مشابہت قرار پائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3340
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 2042 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8790»
حدیث نمبر: 3341
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: ((لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى فَإِنَّهُمُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))، قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیماری کے دوران فرمایا ، جس سے صحت یاب نہ ہو سکے :’’اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے ، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا ۔‘‘ پھر سیدہ نے کہا : اگر اس بات کا خطرہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو بھی (گھر سے باہر) واضح طور پر بنایا جاتا ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3341
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1330،ومسلم: 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25018»
حدیث نمبر: 3342
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
وضاحت:
فوائد:ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا، ان پر مسجدیں تعمیر کرنا اور ان پر سجدہ کرنا شرعاً حرام ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدناعمر رضی اللہ عنہا کی قبریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی گئی تھیں تو اس وقت وہ جگہ مسجد نبوی کا حصہ نہیں تھی، بعدمیں کی جانے والی توسیع کی وجہ سے اس مقام کو مسجدکی حدود نے گھیر لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3342
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه الطيالسي: 229،والدارمي: 2498، والبزار: 439، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4/ 12، والبيھقي: 9/ 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»