کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
حدیث نمبر: 3329
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ سَبَّحْتَ، ثُمَّ كَبَّرْتَ؟ قَالَ: لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبداللہؓ کا بیان ہے، جب سعد بن معاذؓ کا انتقال ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، بعد ازاں جب انہیں قبر میں رکھ کر مٹی برابر کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر تک سُبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر پڑھتے رہے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہتے رہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس موقع پر سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہنے کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا: اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فراخ کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني: 5346، والبيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14934»
حدیث نمبر: 3330
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً، وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا نَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قبر کا دبوچنا ہوتا ہے اور اگر کوئی اس سے نجات پا سکتا ہوتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ نیک لوگ بھی کسی نہ کسی گناہ سے متاثر ہو جاتے ہیں، اس کے بدلے اس کو قبر کے دباؤ میں مبتلا ہونا پڑتا ہے، پھر اسے رحمت پا لیتی ہے، جیسا کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر کے دبوچنے کے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 273، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4624، والبيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24787»
حدیث نمبر: 3331
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: ((يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا))، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ، أَلَا أَخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے، جب ہم قبر کے قریب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور قبر کے اندر دیکھنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کو قبر میں اس قدر دبایا جاتا ہے کہ اس کے کندھے اور سینے کی ہڈیاں اپنی جگہ سے زائل ہو جاتی ہیں اور کافر کی قبر کو تو آگ سے بھر دیا جاتا ہے۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ کون ہیں؟ وہ ہیں جو بدمزاج اور متکبر ہوتے ہیں۔ اور کیا میں تمہیں یہ بھی نہ بتلا دوں کہ سب سے بہترین بندگانِ خدا کون سے ہیں؟ وہ ہیں جو دو بوسیدہ کپڑے والے ضعیف اور فقیر ہوتے ہیں اور جن کو لوگ بھی کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3331
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «سناده ضعيف لضعف محمد بن جابر بن سيار الحنفي، ولانقطاعه، فان ابا البختري سعيد بن فيروز لم يدرك حذيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23850»