کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قبر کی ہولناکی، آزمائش، اس میں کیے جانے والا سوال اور اس کی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3297
عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ))، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَاللَّهِ! مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کہتے ہیں کہ جب سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے کہا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت تو اتنا نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے، اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہولناک پایا۔
وضاحت:
فوائد: … قبر، آخرت کی پہلی منزل ہے اور ہر قبر والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حشر کے میدان میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاء گا، آنے والی دوسری حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جنتی پر قبر میں جنت اور دوزخی پر دوزخ پیش کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4267، والترمذي: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 454»
حدیث نمبر: 3298
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَ الْقُبُورِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ))، فَقَالَ عُمَرُ: بِفِيهِ الْحَجَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فَتَّان (فرشتوں) کا ذکر کیا، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا وہاں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل آج کی طرح۔ تو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے منہ میں پتھر۔
وضاحت:
فوائد: … ’’فَتَّان‘‘ سے مراد قبر میں فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے فرشتے ہیں۔ ’’اس کے منہ میں پتھر‘‘ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل میں ایمان کے رسوخ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب فرشتے قبر میں ان سے سوال کریں گے تو وہ ان کو ایسا درست جواب دیں گے کہ وہ خاموش ہو جائیں گے۔ عرب لوگوں کے ہاں یہ الفاظ سائل کو خاموش کر دینے سے کنایہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 3115، الطبراني في ’’الكبير‘‘ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6603»
حدیث نمبر: 3299
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی پر (قبر میں) میں صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہے تو اہل جہنم کا، اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا تو یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6515، ومسلم: 2866 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4658، 5119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4658»
حدیث نمبر: 3300
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ، فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ (وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا) يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ بَابٌ إِلَى جَنَّةٍ فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ))، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هَبَلَ عِنْدَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس امت کو قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، وہ اس میت کو بٹھا کر پوچھتا ہے: تم اس آدمی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تووہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر اس میت کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور فرشتہ اسے کہتا ہے: اگر تم نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہوتا تو تمہارا یہ ٹھکانہ ہوتا، مگر اب تم مومن ہو، اس لیے تمہارا ٹھکانہ یہ ہے، اتنے میں اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیاجاتا ہے اور جب وہ میت ادھر کو اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: (اِدھر ہی) سکون اختیار کرو، پھر اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر میت کافر یا منافق ہو تو فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں تو کچھ نہیں جانتا، البتہ لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا، فرشتہ کہتا ہے: تو نے نہ سمجھا، نہ پڑھا اور نہ ہی ہدایت پائی۔اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اگر تو اپنے رب پر ایمان لاتاتو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا، مگر تو نے چونکہ اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس کے متبادل ایک اور ٹھکانا تیار کیا ہے، اتنے میں اس کے لیے جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کو گرز کی ایک زبردست ضرب لگاتا ہے، جس کی آواز کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔ یہ حدیث سن کر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر کسی آدمی کے ساتھ کھڑا ہو گا تو وہ تو حواس باختہ ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ آیت پڑھی: : {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کلمۂ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے شروع میں مذکور امت سے مراد ہر وہ مسلمان اور کافر ہے، جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ہو۔ پوری آیت یہ ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔‘‘ مومن کو پہلے جہنم والا اور کافرو منافق کو پہلے جنت والا ٹھکانہ دکھانے کی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرے اور زیادہ خوش ہو اور کافر کی حسرت میں اضافہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11013»
حدیث نمبر: 3301
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نَعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ: قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً فَيَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ (اس کی تدفین کے بعد) واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارے میں پوچھتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہے گا؟ مومن میت کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، اللہ نے تمہارے لیے اس کے عوض جنت میں ٹھکانا تیار کر دیا ہے، وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کی طرف دیکھتا ہے اور قیامت کے دن تک اس کی قبرستر ہاتھ تک فراخ کر دی جاتی ہے اور اس کو تروتازہ نعمتوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ رہا مسئلہ کافر یا منافق کا تو اس سے بھی یہی سوال کیا جاتا ہے کہ تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہے گا؟ وہ کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا، لوگ جو کچھ کہتے تھے، میں بھی کہہ دیتا تھا، (لیکن اب میرے علم کوئی چیز نہیں ہے)۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو نے نہ سمجھا اور نہ پڑھا، پھر اس کے کانوں کے درمیان لوہے کے گرز کی ایک ایسی ضرب لگائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسا چلّاتا ہے کہ جن وانس کے علاوہ قریب والی مخلوق اس کی چیخ و پکار کو سنتی ہے اوراس کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی سیّدنا برائ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں مومن کے لیے منتہائے نگاہ تک قبر کے وسیع ہو جانے کا ذکر ہے، جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ستر ہاتھ کی حد بتائی گئی تو ان شاء اللہ اس وسعت کا دارمدار مومن کے اعمالِ صالحہ پر ہے، جو جتنا نیک ہو گا، اس کو اتنی ہی وسعت ملے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1338، 1374، ومسلم: 2870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12296»
حدیث نمبر: 3302
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ فَاسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي، فَقَالَتْ: أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ؟ قَالَ: ((وَمَا تَقُولُ؟))، قُلْتُ: تَقُولُ: أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ النَّارِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ وَسَأُحَذِّرُكُمُوهُ تَحْذِيرًا لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ وَعَنِّي تُسْأَلُونَ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: فِي الْإِسْلَامِ، فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، وَيُقَالُ: عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ سَوْءًا أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا، فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكَ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، كُنْتَ عَلَى الشَّكِّ وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُعَذَّبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے دروازے پر ایک یہودی عورت کھانا مانگنے کے لیے آئی اور اس نے کہا: اللہ تمہیں فتنۂ دجال اور عذابِ قبر سے محفوظ رکھے، مجھے کھانا دو۔ میں نے اسے کافی دیر تک روکے رکھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا: یہ کہتی ہے کہ اللہ تمہیں دجال کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اللہ سے دجال کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے لگے۔ پھر فرمایا: دجال کا فتنہ تو ایسا فتنہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا ۔ میں بھی تمہیں اس سے ایسا خبردار کرتا ہوں کہ کسی نبی نے اپنی امت کو ویسا خبردار نہیں کیا، (سنو کہ) وہ کانا ہوگا، جبکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر کا لفظ لکھا ہو گا، ہر مومن اسے پڑھ لے گا۔رہا مسئلہ فتنۂ قبر کا تو اس میں تو میرے بارے میں بھی تمہیں آزمایا جائے گا اور میرے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا۔ جب مرنے والا آدمی نیک ہوتا ہے تو اسے قبر میں اس حال میں بٹھایا جاتا ہے کہ اس پر گھبراہٹ اور پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہوتے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم کس دین پر تھے؟ وہ کہتا ہے: اسلام پر تھا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تمہارے درمیان جس ہستی کو مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس واضح دلائل لے کر تشریف لائے تھے اور ہم نے ان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد اس کے لیے جہنم کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے تمہیں بچا لیا ہے، اُدھر دیکھو، پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ جنت کی رونق و بہار اور اس میں موجود دوسری نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس جنت میں یہ ٹھکانہ تیرا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ تم دنیا میں یقین پر جیئے، اسی پر فوت ہوئے اور اسی پر ان شاء اللہ اٹھائے جاؤ گے۔اور اگر وہ میت برا ہو تو اسے جب قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ گھبرایا ہوا اور بہت زیادہ خوفزدہ ہوتا ہے۔اس سے پوچھا جاتا ہے: تو دنیا میں کس دین پر تھا؟ وہ جواب دیتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا۔اس سے کہا جاتا ہے: جس ہستی کو تمہارے درمیان مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنا، میں نے بھی وہی کچھ کہہ دیا تھا، (اب تو مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے)۔ اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف ایک شگاف کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی رونقوں اور اس کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھ جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے پھیر لی ہے، اتنے میں جہنم کی طرف سے ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی طرف دیکھتا ہے کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا ہوتا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے: جہنم میں تیرا ٹھکانہ یہ ہے، دراصل بات یہ ہے کہ تو شک پر تھا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اسے عذاب دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہودی عورت کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کھانا مانگنے کے لیے آنا، اس سے ہمیں بھی کافر اور مسلمان کے تعلق کو سمجھنا چاہیے، کسی بھی کافر سے نفرت کرنا اور بات ہے اور اس کے ساتھ لین دین کرنا اور بات ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 29 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25602»
حدیث نمبر: 3303
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ فَتَّانِي الْقَبْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَ مَلَكٌ شَدِيدُ الْانْتِهَارِ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ، فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ فِي النَّارِ، قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ وَأَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: دَعُونِي، أُبَشِّرُ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيُقْعَدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ، هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي كَانَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ، قَدْ أُبْدِلْتَ مَكَانَهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ))، قَالَ جَابِرٌ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ، الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ، وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیّدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قبر میں فتنے میں ڈالنے والے فرشتوں کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کو ان کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور لوگ اسے دفنا کر واپس آتے ہیں تو ایک انتہائی بارعب فرشتہ اس کے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے: تم اس شخصیت (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مومن جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو کہ جس سے اللہ نے تمہیں نجات دلائی ہے اور اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ، جو اللہ تعالیٰ نے جہنم والی اس منزل کے متبادل تجھے عطا کیا ہے، پھر وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑو ذرا، میں اپنے اہل خانہ کو خوشخبری سناتا ہوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے: ٹھہر جا۔ رہا مسئلہ منافق کا تو جب لوگ اسے دفنا کر واپس ہوتے ہیں تو اسے بٹھا کر اس سے پوچھا جاتا ہے: تم اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں نہیں جانتا،بس میں بھی وہی کہہ دیتا تھا، جو دوسرے لوگ کہا کرتے تھے، پس اس سے کہا جاتا ہے: تو نے سمجھا نہیں، تیرا جنت میں یہ مقام تھا، لیکن اب اس کے عوض تیرے لیے جہنم میں یہ ٹھکانا ہے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ ہر آدمی جس عقیدے پر فوت ہوتا ہے، اس کو اسی عقیدے پر اٹھایا جاتا ہے، یعنی مومن کو ایمان پر اور منافق کو نفاق پر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، ابن لھيعة قد توبع أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 9072، وعبد الرزاق: 6744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14779»
حدیث نمبر: 3304
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: كَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ: ((إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ، الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ، قَالَ فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَتُرُدُّهُ وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ، قَالَ فَيُنَادِيهِ اجْلِسْ، قَالَ فَيَجْلِسُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا ذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي النَّبِيَّ؟ قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَقُولُ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ أَدْرَكْتَهُ؟ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: يَقُولُ: عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ وَعَلَى هِ مِتَّ وَعَلَى هِ تُبْعَثُ، قَالَ وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا أَوْ كَافِرًا قَالَ جَاءَ الْمَلَكُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ، قَالَ: يَقُولُ: اجْلِسْ، مَا ذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ قَالَ: أَيُّ رَجُلٍ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ: وَاللَّهِ! مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ، قَالَ: فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ: عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ وَعَلَى هِ مِتَّ وَعَلَى هِ تُبْعَثُ، قَالَ وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ مَعَهَا سَوْطٌ ثَمَرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلَ غَرْبِ الْبَعِيرِ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے، تو اگر وہ مومن ہو تو اس کے نیک اعمال نماز اور روزہ وغیرہ اسے گھیر لیتے ہیں، جب فرشتہ اس کی طرف نماز والی جانب سے آتا ہے تو نماز اسے روک لیتی ہے اور جب روزہ والی جانب سے آتا ہے تو روزہ اسے روک دیتا ہے، اس لیے فرشتہ دور سے ہی آواز دے دیتا ہے: بیٹھ جا، وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے،فرشتہ پوچھتا ہے: تم اس آدمی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟وہ آگے سے پوچھتا ہے: وہ کون سا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تمہیں اس کا علم کیسے ہوا؟ کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا؟ وہ کہتا ہے:میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تم نے اسی عقیدہ پر زندگی گزاری، اسی پر تمہیں موت آئی اور تمہیں اسی پراٹھایا جائے گا۔ اگر فوت شدہ آدمی کافر یا فاجر ہو تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور (عمل کی صورت میں) اس کے پاس فرشتے کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، سو وہ اسے بٹھا کر پوچھتا ہے: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: کونسا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ وہ کہتا ہے: اللہ کی قسم! میں تو کچھ نہیں جانتا، ہاں میں لوگوں کو جو بات کہتے ہوئے سنتا تھا، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اسی پر تیری زندگی گزری، اسی پر تجھے موت آئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔اس کے بعد اس کی قبر میں اس پر ایک جاندار مسلط کر دیا جاتا ہے، اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے، جس کی (ضرب) کا نتیجہ اونٹ کے بڑے ڈول کی طرح کا انگارہ ہوتا ہے،جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جاندار بہرا ہوگا،تاکہ اس کی آواز سن کر اس پر رحم نہ کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الصحيح غير ان محمد بن المنكدر لم يذكروا له سماعا من اسماء بنت ابي بكر، وھو قد ادركھا أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 281 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27516»