کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ، وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَفَ (وَفِي لَفْظٍ: الْمِخْرَافَ) صَدَقَةٌ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3080، 3508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3508»
حدیث نمبر: 3290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ: میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ بات کر سکتی تو صدقہ کرتی، تو اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2760، ومسلم: 1004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24755»
حدیث نمبر: 3291
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سَقْيُ الْمَاءِ))، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ ’’تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی طرف سے کنواں کھدوایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681، والنسائي: 6/ 255، وابن ماجه:3684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24346»
حدیث نمبر: 3292
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِي عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ((أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، اب اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو ان کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ان کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3292
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2761، 6698، ومسلم: 1638 لكن جعلاه من مسند ابن عباس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1893، 23846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24347»
حدیث نمبر: 3293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَإِنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ((أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، (پھر وہ مر گیا اوراس کے ایک بیٹے) ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیئے، لیکن سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور پھر تم اس کی طرف سے روزے رکھتے اور صدقہ کرتے تو اسے اس کا فائدہ ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … عاص کے دو بیٹے ہشام اور عمرو تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر پر مرنے والے کو نیک عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3293
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6704»
حدیث نمبر: 3294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے مال تو چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی، تو کیاان کی طرف سے میرا صدقہ کرناان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3294
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8828»
حدیث نمبر: 3295
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: ((أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟))، قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: میری والدہ کچھ زیورات چھوڑ کر فوت ہو گئی ہیں، تو کیا میں یہ زیورات ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کے زیورات کو اپنے پاس ہی رکھو (اور صدقہ نہ کر)۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ یہ آدمی خود زیادہ محتاج تھا، اس لیے یہ جس مال کا وارث بنا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3295
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، ابن لھيعة سييء الحفظ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 772 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17356، 17437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17573»
حدیث نمبر: 3296
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَاسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَؤُهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس، قرآن کریم کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے، اور اپنے قریب الموت لوگوں پر بھی اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کا اصل قانون یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی نیکی اور برائی کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا} (سورۂ فصلت: ۴۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه أخرجه ابوداود: 3121، وابن ماجه: 1448 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300، 20301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»