کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
حدیث نمبر: 3285
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ أَوْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سیّدناجعفر بن ابی طالب کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3132، وابن ماجه: 1610، والترمذي: 998 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1751»
حدیث نمبر: 3286
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ مَوْتِ زَوْجِهَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِهِ: ((لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3286
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ام عيسي الجزار، لكن يشھد له ما قبله أخرجه ابن ماجه: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27626»
حدیث نمبر: 3287
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهُ وَخَاصَّتَهُ، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تلبینہ: مختلف تعریفوں کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے: (۱)بھوسی یا چھنے ہوئے آٹے میں دودھ اور شہد ملا کر بنایا ہوا حریرہ، (۲) دودھ، (۳) خالص آٹا، (۴) وہ آٹا، جس میں چربی ہو۔ عام طور پر پہلا معنی ہی مراد لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5417، ومسلم: 2216 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24512، 25219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25734»
حدیث نمبر: 3288
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةِ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ میت کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کیا کریں۔ لیکن اس وقت ہمارے ہاں بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت جنازے اور تعزیت میں شرکت کرنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا ہے، جس کا جنازہ گاہ میں باقاعدہ اعلان بھی کیا جاتا ہے اور جس کو اہل میت چارو ناچار اپنی عزت سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ عجیب ہمدردی اور خیرخواہی ہے کہ ایک طرف تو اہل میت کرب و اذیت میں مبتلا ہوں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر ان کو کھانے کا اہتمام بھی کرنا پڑ جائے، بندۂ غریب نے خود بعض ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ برادری کے ایک بڑے آدمی کی فوتگی پر ابھی تک اس کے لیے غسل و کفن کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا کہ اہل میت جمع ہو کر کھانے کے بارے میں فکر مند تھے اور اپنی ایک گائے ذبح کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ وہ فوتگی کے رواجوں کو پورا کرتے کرتے کنگال ہو گئے اور دس دس سالوں تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے، جبکہ اس سے قبل ان کے ذاتی کاروبار بھی تھے۔یہ نظام شرعاً اور اخلاقاً کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس رواج سے انتہائی تنگ ہے، لیکن بزعم خود اپنی عزت اور ناک کا مسئلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، نصر بن باب، وان كان ضعيف الحديث، متابَعٌ أخرجه ابن ماجه: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6905»