کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3272
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُقَصَّصَ أَوْ يُنْبَى عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے، اسے چونا گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 970 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14195»
حدیث نمبر: 3273
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُجَصَّصَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے اور اسے چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: ((… وَاَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ …۔)) یعنی: اور قبر پر لکھنے سے بھی منع فرمایا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی قبر پر لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قبر پر لکھنا بھی منع ہے، لیکن اس وقت قبروں کو اونچا بنانا، پکا کرنا، ان پر لکھنا، سنگ ِ مر مر کی تختیاں لگانا، بار بار ان کی مرمت کرنا، ان کے اوپر کمرے بنانا، قبروں پر بیٹھنا، ان میں بلکہ ان پر جوتوں سمیت چلنا، یہ امور عام ہو چکے ہیں، اس طرح کئی احادیث ِ مبارکہ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ البتہ قبر کی شناخت کے لیے لکھنے کے علاوہ کوئی اور علامت لگائی جا سکتی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد اختلف فيه علي ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27090»
حدیث نمبر: 3274
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ (وَفِي لَفْظٍ) خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَطَأَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی آدمی آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کے چمڑے تک جا پہنچے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر کو روندے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8093»
حدیث نمبر: 3275
عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُصَلُّوا إِلَى القُبُورِ وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا (وَفِي لَفْظٍ) لَا تَجْلِسُوا عَلَى القُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبروں کی طرف رخ کر کے نہ نماز پڑھو اورنہ ان پر بیٹھو۔ ایک روایت میں ہے: نہ تم قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان پر نماز پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 972 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17347»
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ))، قَالَ: يَرَوْنَ أَنَّهُ فِي الْإِثْمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَطْنَنْتُهُ قَوْلَ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کی ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے، جیسے زندہ کی ہڈی توڑی جائے۔ اہل علم کا خیال ہے کہ (اس حدیث کا تعلق ہڈی توڑنے) کے گناہ سے ہے، عبد الرزاق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ داؤد بن قیس کا قول ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25870»
حدیث نمبر: 3277
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فوت شدہ مومن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی توڑی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا تعلق میت کے احترام سے ہے، جس کی بے حرمتی کا لازمی نتیجہ گناہ ہے، بہرحال میت کی ہڈی توڑنے سے قصاص یا دیت واجب نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح أخرجه ابوداود: 3207، وابن ماجه: 1616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24812»
حدیث نمبر: 3278
عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِهِ فَقَالَ لِي: ((يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ! مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ))، قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ آخِذًا بِيَدِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ خَيْرٍ، قَالَ: فَأَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا، قَالَ: فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ، فَقَالَ: ((وَيْحَكَ، يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ! أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بشیر بن خصاصہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکھا ہوا نام بشیر، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا عیب لگاتے ہو، حالانکہ تم اس کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو اور تم نے ان کا ہاتھ بھی تھام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر کس چیز کا عیب لگا سکتا ہوں، جبکہ اس نے تو مجھے ہر قسم کی خیر عطا کر رکھی ہے۔ اتنے میں ہم مشرکوں کی قبروں تک جا پہنچے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بڑی بھلائی کو (پیچھے چھوڑ کر) آگے نکل گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد ہم مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: ان لوگوں نے (اسلام قبول کر کے) بہت زیادہ بھلائی پائی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو جوتوں سمیت قبروں میں چلتے ہوئے دیکھا اور اسے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے! تو ہلاک ہو جائے! اپنے جوتوں کو اتار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، جب اس آدمی نے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’سِبْت‘‘ گائے کے اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس کو قرظ یا سلم کے درخت کے پتوں سے رنگا گیا ہو اور اس کے بال اتارے نہ گئے ہوں۔ اس چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو ’’نِعَال سِبْتِیَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے احترام کی خاطر اس شخص کو جوتے اتار دینے کا حکم دیا تھا۔ سیّدنابشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام ’’زحم‘‘ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے بشیر رکھا تھا، اس لیے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’بشیرِ رسول‘‘ کہا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3230، وابن ماجه: 1568، والنسائي: 4/ 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 220787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21068»
حدیث نمبر: 3279
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سُفْيَانَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نَعَالِهِمْ، إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ میت کو دفن کے بعد واپس جاتے ہیں تو میت ان لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 378، والبزار: 873، وابن حبان: 3118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9740»
حدیث نمبر: 3280
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وَضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نَعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھا دیتے ہیں … ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میت کا جوتوں کی آواز سننا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوتے پہن کر قبروں پر یا ان کے درمیان میں چلنا جائز ہے، لہٰذا ان دو احادیث کا اس حدیث سے کوئی تعارض نہیں ہے، جس میں جوتے پہن کر قبرستان میں چلنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ یہ حدیث ممانعت میں واضح بھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3280
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1338، 1374، ومسلم: 2870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12296»