کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
حدیث نمبر: 3266
عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ: ((أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخَهَا؟))، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَانْطَلَقَ فَحَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَخْتُهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ عَادَ لِصَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ))، ثُمَّ قَالَ: ((لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمَسْبُوقُونَ بِالْعَمَلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3266
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو محمد الھذلي لايعرف أخرجه الطيالسي: 96، وابويعلي: 506 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 657»
حدیث نمبر: 3267
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يَلْطَخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ((يَا عَلِيُّ! لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آج کرتے ہیں، کل کر لیں گے، بس کر ہی لیں گے۔ وہ یہی باتیں کرتے کرتے وقت گزار دیتے ہیں، ان کو کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ یہ بڑا خطرناک انداز ہے، جس کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انداز سے بچائے۔ (آمین) نیکی کے کام جلد اور اول فرصت میں کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3267
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1176»
حدیث نمبر: 3268
عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَبِيهِ: لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس سلسلے میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل روایت صحیح ہے: ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3268
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، يونس بن خباب كذبه يحيي بن سعيد، وقال ابن معين: رجل سوء ضعيف، وقال البخاري: منكر الحديث۔ أخرجه البزار: 911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 683، 889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 889»
حدیث نمبر: 3269
عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ، وَكَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِيَةَ عَلَى الدَّرْبِ، فَأُصِيبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَضَالَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ، حَتَّى وَارَاهُ فَلَمَّا سَوَّيْنَا عَلَيْهِ حُفْرَتَهُ، قَالَ: أَخِفُّوا عَنْهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ القُبُورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے یہاں تک کے اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 968 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24431»
حدیث نمبر: 3270
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَعَلَى ذَلِكَ الْجَيْشِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فَضَالَةُ: خَفِّفُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ القُبُورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ تھے، … سارا واقعہ بیان کیا … ، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3270
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24433»
حدیث نمبر: 3271
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَسُوِّيَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَوُّوا قُبُورَكُمْ بِالْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قبر کو زمین سے بلند کر کے بنایا جائے گا اور اسے زمین کے بالکل برابر نہیں کیا جائے گا، تاکہ اس کی حفاظت ہوتی رہے اور اس کی توہین نہ ہونے پائے۔ تو پھر سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث اور اس سے ان کے کیے ہوئے استدلال کا کیا بنے گا؟ اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق غیر شرعی اونچی قبروں سے تھا، جیسا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزر چکا ہے، لیکن سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کو عام سمجھ لیا اور (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا معنی یہ ہو کہ ان کو کم بلند رکھا جائے۔ قبر کے بارے میں مزید احادیث:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، وانظر الحديث بالطريق الاول أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 810، وفي ’’الاوسط‘‘: 3188 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24459»