کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3257
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وَضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي الْقَبْرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى}، قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا، فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْجَبُوبَ، وَيَقُولُ: ((سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ))، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ … … تَارَۃً أُخْرٰی} (سورۂ طہ، ۵۵) (ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی تھی یا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض لوگ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا اس میں مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3257
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي و علي بن يزيد الالھاني ضعيفان، وقال الذھبي: علي بن يزيد متروك أخرجه الحاكم: 2/ 379، والبيهقي: 3/ 409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22540»
حدیث نمبر: 3258
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ، فَقُولُوا: بِاسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے فوت شدگان کو قبر میں اتارو تو یہ دعا پڑھا کرو: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول کے طریقے پر)۔
وضاحت:
فوائد: … اس دعا کے لفظ ’’مِلَّۃِ‘‘ کی بجائے ’’سُنَّۃِ‘‘ کہنا بھی درست ہے اور ایک حدیث میں اس دعا کے یہ الفاظ مذکور ہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3213، والترمذي: 1046، وابن ماجه: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4812»
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَهِدَ جَنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَظْهَرُوا الْاسْتِغْفَارَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَظْهَرُوا لَهُ الْاسْتِغْفَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے اس کے حق میں بلند آواز سے دعائے مغفرت کی اور سیّدناانس رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی انکار نہیں کیا۔ خالد راوی نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: انہوں نے میت کو قبر کے پاؤں کی طرف سے اتارا تھا۔ اور ہشیم راوی نے ایک مرتبہ اس حدیث کو یوں بیان کیا: بصرہ میں ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا تھا، سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے میت کے حق میں بآواز بلند دعائے مغفرت کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ہم ’’جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا‘‘ کے باب میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ میت کے پاس کون سی آواز منع ہے، نیز میت کو قبر میں اتارنے کی دعا کی بھی وضاحت ہو چکی، اِس حدیث سے مراد اتفاقی طور پر دعائیہ کلمات کی آواز کا بلند ہو جانا ہے۔ اس حدیث میں ایک اور اہم مسئلے کا بیان ہے، جس سے ہمارے ہاں عام طور پر غفلت برتی جا رہی ہے، اور وہ ہے میت کو اس کی قبر کی پاؤں والی سمت سے داخل کرنا، اس کی مرفوع دلیل یہ ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4080»
حدیث نمبر: 3260
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، ثُمَّ قَالَ: ((هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟))، قَالَ سُرَيْجٌ: يَعْنِي: ذَنْبًا، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((فَانْزِلْ))، قَالَ: فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحب زادی کے جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے، جس نے اِس رات کو (اپنی بیوی سے)ہم بستری نہ کی ہو؟ سریج نے کہا: اس کا معنی گناہ ہے، سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اترو۔ پس وہ ان کی قبر میں اترے۔
وضاحت:
فوائد: … سریج کا بیان کردہ معنی درست نہیں ہے، جیسا کہ اگلی روایت سے واضح ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3260
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13416»
حدیث نمبر: 3261
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ))، فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاُولُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه الحاكم: 4/ 47، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 2512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13431»
حدیث نمبر: 3262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا، وَقَعَدْ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ أَوْ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مِنْ عُلُوِّھَا‘‘ کا مرادی معنی ’’مِنْ اِبْتِدَائِھَا‘‘ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الله بن ھرمز ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10887»