کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ اپنے کیے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1393، 6516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25984»
حدیث نمبر: 3246
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو گالی دینے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18208، 18209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18395»
حدیث نمبر: 3247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح سے زندگان کو تکلیف دو گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397»
حدیث نمبر: 3248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3248
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعفه احمد و ابوزرعة وابوحاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه النسائي: 8/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»
حدیث نمبر: 3249
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیّدناعلیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تو سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا کرتے تھے، لہٰذا تم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو، جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی اور اس موضوع کی دیگر کئی احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، جبکہ گزشتہ باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض مردوں کو برا بھلا کہا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، امام نووی نے اس ظاہری تناقض میں جمع و تطبیق کی یہ صورت پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو منافق، کافر اور فسق یا بدعت کا اظہارکرنے والے نہ ہوں، وگرنہ ایسے بروں کا برا تذکرہ کرنا تو جائز ہے، تاکہ دوسرے لوگ ان کی اقتداء کرنے سے باز رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3249
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حجاج مولي بني ثعلبة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4975، والحاكم: 1/ 384، وابن ابي شيبة: 3/ 366 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19503»