حدیث نمبر: 3237
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ))، وَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ))، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقُلْتُ: ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ))، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: ((وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ))، فَقَالَ: ((مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کے حق میں کلمۂ خیر کہا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں برا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، جب ایک جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور جب دوسرا جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں برا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: جس کے حق میں تم لوگوں نے اچھے کلمات کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کے حق میں تم نے برے کلمات کہے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ دراصل تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 3238
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ، وَفِيهِ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، (وَقَالَ فِي الْأُخْرَى) فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ: ((وَجَبَتْ))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: لوگوں نے اس کے خیر والے اوصاف بیان کیے، (اور دوسرے جنازے کے) برے اوصاف بیان کیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ پھر فرمایا: بیشک تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 3239
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُهُ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَازَةُ، قَالَ: فَمَرُّوا فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا خَيْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا: هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَبُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: قَالُوا: أَرَأَيْتَ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، وَلَأَنْ أَكُونَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ: فَقِيلَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ بیٹھے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھا کرتے تھے اور لوگ وہاں سے جنازے لے کر گزرتے تھے، (اس بار بھی) لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کے حق میں بھی لوگوں نے کلمۂ خیر کہا، انہوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کی بھی مدح سرائی کی گئی، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ پھر ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے جھوٹا آدمی تھا، یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:جو آدمی لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہو گا، وہ اللہ پر بھی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ہوتا ہے، اس سے کم درجہ جھوٹا وہ ہوتا ہے، جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر چار آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: تب بھی واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر دو آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: پھر بھی واجب ہو جائے گی۔اور اگر میں نے ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں بھی پوچھ لیا ہوتا تو یہ بات مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ کسی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سارا کچھ آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے یہ ساری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی اپنے آپ کو ایسی صفت سے موصوف ٹھہرانا چاہتا ہے، جو حقیقت میں اس میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3240
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَيْتُهَا وَقَدْ وَقَعَ فِيهَا مَرَضٌ فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ))، قَالَ: فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((وَثَلَاثَةٌ))، قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ((وَاثْنَانِ))، قَالَ: ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوالاسود کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا،ان دنوں وہاں ایک وبا پھیلی ہوئی تھی اور لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے۔ میں سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا، اس کے حق میں دوسرے لوگوں کی طرف سے کلمۂ خیر کہا گیا، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا، اس کے حق میں بھی تعریفی کلمات کہے گئے، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد ایک تیسرا جنازہ گزرا، اس کی مذمت کی گئی، لیکن تب بھی انہوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ابوالاسود نے کہا: امیر المومنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اسی طرح بات کی، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی کہ جس مسلمان کے حق میں چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں، اللہ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ ہم نے پوچھا: تین آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے پوچھا: اور دو آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بھی۔ پھر ہم ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں سوال نہ کر سکے۔
حدیث نمبر: 3241
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ بِالنَّبَاءِ أَوِ النَّبَوَةِ، شَكَّ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ قَالَ: خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طائف کے قریب نَبَاءَ ۃ یا نَبَاوَۃ مقام پر یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم جہنمیوں میں سے جنتیوں یا بروں میں سے نیکوں کو پہنچان سکتے ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری یا اچھی تعریف کے ساتھ، دراصل تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے حق میں اللہ کے گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 3242
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ بِخَيْرٍ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جو مسلمان آدمی فوت ہو جائے اور اس کے قریبی ہمسایوں میں سے تین گھر والے لوگ اس کے حق میں خیر کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے بندوں نے اپنے علم کے مطابق جو گواہی دی ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ہے اور وہ (گناہ) معاف کر دیئے ہیں، جو میں جانتا ہوں۔
حدیث نمبر: 3243
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ إِلَّا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَدْ قَبِلْتُ فِيهِ عِلْمَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہو جائے اور اس کے حق میں قریبی ہمسایوں میں سے چار گھر والے اس کے حق میں گواہی دیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میں اس کے حق میں تمہارے علم کو قبول کرتا ہوں اور اس کے جن (گناہوں) کا تمہیں علم نہیں ہے، ان کو معاف کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 3244
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ قَالَ: ((مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت میں چلا جاتا ہے اور فاجر آدمی سے دوسرے انسان، شہر، درخت اور چوپائے راحت پا جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس گواہی سے مراد قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ تکلف کے ساتھ میت کے مرثیے پڑھے جائیں اور نظم و نثر کی صورت میں مختلف مجلسوں میں اس کے اوصاف بیان کیے جائے اور اس ضمن میں بعض گویّا نما اور قوّال لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں، جن کا مقصود لواحقین کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہوتا ہے۔ان احادیث میں ایسی شہادت کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں الہام کرتا ہے اور وہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بول پڑتے ہیں اور یہ گواہی دینے والے ثقہ، بااعتماد اور شریعت کا فہم رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی طبیعت اور معاشرے سے متاثر ہوئے بغیر میت کی اچھائیوں یا برائیوں کو سامنے رکھ میت کا اچھا یا برا تذکرہ کر بیٹھتے ہیں، جبکہ برے تذکرے سے ان کا مقصود مردوں کو برا بھلا کہنا بھی نہیں ہوتا ہے، جس سے اگلی احادیث میں منع کیا جا رہا ہے۔