کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3231
عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جَنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا أَوْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ))، قَالَ لَيْثُ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةً إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى، فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا يُقِيمُكُمْ؟ فَقُلْنَا: هَذَا مَا تَأْتُونَنَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ! قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جَنَازَةٌ، فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا أَوْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ))، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیث کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث مجاہد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن سنجرہ ازدی نے بیان کرتے ہوئے کہا:ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ایک جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہمارے قریب سے کوئی اور جنازہ گزرا،ہم اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اصحابِ محمد! تم نے ہمیں جو حدیث بیان کی ہے، ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا کہ سیّدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کی موافقت کیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی طرف سے) روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور اس کے بعد ایسا عمل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3231
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الحديث انما ھو حديثان، (1) حديث ابي موسي وھو صحيح لغيره أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 357، و(2)حديث علي، وھو صحيح دون قوله: ’’وكانوا اھل كتاب، وكان يتشبه بھم‘‘ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 358، والنسائي: 4/ 46، وأخرجه مسلم: 1840 مختصرا۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19942»
حدیث نمبر: 3232
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا؟ فَقَالُوا: أَبُو مَوسَى، فَقَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابومعمر کہتے ہیں: ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا اورلوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں کھڑے ہونے کا فتویٰ کس نے دیا؟ لوگوں نے کہا کہ سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے، یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند کرتے تھے کہ اہل کتاب سے موافقت اختیار کی جائے، لیکن جب (اللہ کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔ فوائد: … سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 162، والحميدي: 50، وابويعلي: 266، وأخرج بنحوه ابن ابي شيبة: 3/ 358، والنسائي: 4/ 46 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1200»
حدیث نمبر: 3233
وَعَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: شَهِدْتُّ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلْمَةَ، فَقُمْتُ فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جَبِيرٍ: اجْلِسْ فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبَتٍ، حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرْقِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحْبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجَنَازَةِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
واقد بن عمرو کہتے ہیں: میں بنو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر ہوا اور (جنازہ کو دیکھ کر) میں کھڑا ہو گیا۔ نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس مسئلہ کے بارے میں ایک ثقہ آدمی کی حدیث بیان کرتا ہوں،مسعود بن حکم زرقی نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے مسجد ِ کوفہ کے صحن میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا ہمیں حکم تو دیا تھا، لیکن اس کے بعد آپ بیٹھے رہتے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3233
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 962 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 623»
حدیث نمبر: 3234
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي بْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ يُنْكِرِ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/ 46، 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1726»
حدیث نمبر: 3235
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأْذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3235
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس، ومحمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي عم ابيه۔ أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1722»
حدیث نمبر: 3236
عَنْ حُسَيْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ جَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مُرَّ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: ((آذَانِي رِيحُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی وجوہات پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث اور درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہو چکا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جاتا تھا، ایک دن ایک یہودی عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہا: ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھ گئے اور یہ بھی فرمایا: ((اِجْلِسُوْا خَالِفُوْھمُ۔ْ)) یعنی: ’’بیٹھ جاؤ اور ان کی مخالفت کرو۔‘‘ (ابوداود: ۳۱۷۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3236
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان محمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي وابن عباس أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722، 1733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1733»