کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
حدیث نمبر: 3223
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، قُومُوا لَهَا، فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑا ہواکریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس کے لیے کھڑا ہوا کرو، پس بیشک تم اس کے لیے نہیں، بلکہ روحوں کو قبض کرنے والی ذات کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی تمہارے کھڑے ہونے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے، جو مخلوقات کی زندگی کو موت سے بدل دیتا ہے، اس سے تم کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قہر یاد آ جانا چاہیے اور غفلت اور دنیا سے دھوکہ کھانے سے باز آ جانا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3223
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 486، وابن حبان: 3053، والحاكم: 1/ 357، والبيھقي: 4/ 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6573»
حدیث نمبر: 3224
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ابوزبیر نے مجھے یہ بھی بیان کہ سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3224
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 960 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14194»
حدیث نمبر: 3225
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، قَالَ: ((إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک موت ایک گھبراہٹ ہے، اس لیے جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1311، ومسلم: 960، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14480»
حدیث نمبر: 3226
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَهَا إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، قَالَ: ((إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی اس کو اٹھانے کے لیے چل پڑے، لیکن اچانک پتہ چلا کہ وہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ تھا، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتایا کہ یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موت کی گھبراہٹ ہوتی ہے، اس لیے تم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی موت کو دیکھنے کے بعد غفلت کو ختم کرنے کے لیے مسلمان کو کھڑا ہو جانا چاہیے، تاکہ وہ عبرت حاصل کرے اور تساہل ترک کر دے، اس لیے اس معاملے میں مسلم اور غیر مسلم جنازے کو برابر قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14872»
حدیث نمبر: 3227
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ: ((قُومُوا، فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، بے شک موت کی ایک پریشانی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3227
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7860، 8527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8508»
حدیث نمبر: 3228
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: ((إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے،کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3228
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8508»
حدیث نمبر: 3229
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَقَيْسَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمَرَّا بِجَنَازَةٍ، فَقَامَا، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: ((أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیّدناسہل بن حنیف اور سیّدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ مقام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے، یہ دونوں کھڑے ہو گئے۔ کسی نے ان سے کہا:یہ تو ذمی لوگوں میں سے تھا۔ انھوں نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ لے کر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہوئے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: یہ تو یہودی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ایک جان نہیں ہے؟
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم سابقہ احادیث والا ہی ہے، یعنی یہ بھی مرنے والا ایک نفس ہی ہے اور ہمارا کھڑا ہونا موت کی صعوبت کی یاددہانی کی خاطرہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3229
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1312، ومسلم: 961 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24343»
حدیث نمبر: 3230
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَارَ وَثَارَ أَصْحَابُهُ مَعَهُ، فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ، قَالَ: وَاللَّهِ! مَا أَدْرِي مِنْ تَأْذٍ بِهَا، أَوْ مِنْ تَضَايُقِ الْمَكَانِ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَهُودِيًّا أَوْ يَهُودِيَّةً، وَمَا سَأَلْنَا عَنْ قِيَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ جلدی سے کھڑے ہو گئے اور اس کے گزر جانے تک کھڑے رہے۔ اللہ کی قسم! مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ اس کی (بدبو) کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے، جبکہ میرا تو یہی خیال ہے کہ وہ جنازہ کسی یہودی مرد یا عورت کا تھا، بہرحال ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کا سبب دریافت نہیں کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ سابقہ احادیث میں غیر مسلم کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونے کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں، البتہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیّدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا علم نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3230
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19682»