کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3216
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا، فَمَنِ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوَضَعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور جو کوئی جنازے کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1310، ومسلم: 959 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11386»
حدیث نمبر: 3217
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ جنازہ پڑھے اور تدفین کے لیے میت کے ساتھ نہ جائے تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے غائب نہ ہو جائے، اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7583»
حدیث نمبر: 3218
عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ إِلَيْهَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ بھی ایک جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 185 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 426»
حدیث نمبر: 3219
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوَضَعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جنازہ دیکھے، جبکہ وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو تو وہ اس وقت تک کھڑا رہے، جب تک وہ اس سے تجاوز نہ کر جائے یا اسے رکھ نہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3219
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1308، ومسلم: 958 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15763»
حدیث نمبر: 3220
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب توجنازہ دیکھے تو اس وقت تک کھڑا رہ جب تک وہ تجھ سے آگے نہ گزر جائے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15762»
حدیث نمبر: 3221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ مَرْوَانُ: اجْلِسْ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَامَ مَرْوَانُ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر کہتے ہیں: سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، مروان نے ان سے کہا: بیٹھے رہو، انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (جنازے کے لیے) کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تھا، یہ سن کر مروان بھی کھڑا ہو گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11526»
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذَئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ! فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گزرے اور انھوں نے کہا: اے امیر! کھڑے ہو جاؤ، یہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے ،جب تک اس کو زمین پر نہ رکھ دیا جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دوسرے طرق سے پتہ چلتا ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ اور سیّدنا ابو سعیدdاور مروان سب نے اس میت کی نماز جنازہ ادا کی تھی، بلکہ مروان نے توا مامت کروائی تھی، جنازے کے بعد جب مروان بیٹھا تو اس کے ساتھ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے، ممکن ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا س کھڑے ہونے کو واجب نہ سمجھتے ہوں یا پھر انھوں نے مصلحت سے کام لیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11949»