کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
حدیث نمبر: 3212
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ قُمْتَ بِنَا مَعَهَا، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَبَضَ عَلَيْهَا قَبْضًا شَدِيدًا، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَقَابِرِ سَمِعَ رَنَّةً مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ قَابِضٌ عَلَى يَدِي فَاسْتَدَارَ، فَاسْتَقْبَلَهَا فَقَالَ لَهَا شَرًّا، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّبِعَ جَنَازَةً فِيهَا رَنَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، پھر انھوں نے کہا: اگر تم بھی کھڑے ہو اور (ہمارے ساتھ چلو)۔ پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو سختی سے پکڑا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک عورت کے چیخنے کی آواز سنی، جبکہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے مجھے گھمایا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے، جس کے ساتھ رونے کی آواز ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ابن ماجہ کی روایت میں ’’رَانَّۃٌ‘‘ (رونے والی خاتون)کے الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے ان کی بے صبری کی وجہ سے جنازوں کے ساتھ چلنا مکروہ ہے۔ بہرحال اگر نماز جنازہ مسجد یا گھر کے اندر ہی پڑھا جا رہا ہو تو عورتوں کو شرکت کرنی چاہیے، جیسا کہ گزر جانے والے چوتھے باب ’’مسجد میں نماز جنازہ کا بیان‘‘ میں مذکورہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بمجموع طرقه و شواهده أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 13498، ورواه ابن ماجه: 1583 مختصرة بالمرفوع فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5668»
حدیث نمبر: 3213
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِنَارٍ وَلَا صَوْتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے ساتھ آگ اور آواز نہیں ہونی چاہیے۔
وضاحت:
فوائد: … آواز سے مراد نوحہ، چیخ و پکار اور بلند آواز سے مخصوص ذکر جیسے ناپسندیدہ اور بدعتی امور ہیں، ہمارے ہاں بعض لوگ چارپائی کو کندھا دیتے وقت ’’کلمۂ شہادت‘‘ کا لفظ دوہراتے ہیں، یہ لفظ غیر مسنون بھی ہے اور بے معنی بھی۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّV یَکْرَھُوْنَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ۔ یعنی: صحابہ کرامe جنازوں کے پاس بلندآواز کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن بیہقی: ۴/۷۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3171 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9515، 10831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9511»
حدیث نمبر: 3214
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُهِيَ عَنْ اِتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے سے چلنے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اتنی سختی نہیں کی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … منع کرنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جیسا کہ دوسری روایات میں وضاحت کی گئی ہے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا حرام نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1278، ومسلم: 938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27846»
حدیث نمبر: 3215
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا إِلَى الطَّرِيقِ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟))، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، فَقَالَ: ((لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟))، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ! أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: ((لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت ہونے والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جاتی تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا، بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3215
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري: عنده مناكير، وضعفه الازدي والنسائي، وقال النسائي ايضا: لا بأس به، وقال الدارقطني: صالح، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘: 6/ 301 وقال: كان يخطيء كثيرا أخرجه ابوداود: 3123، والنسائي: 4/ 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6574»