حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْهَجَرِيُّ قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوَّاءَ يَعْنِي سَوْدَاءَ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهَا: قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فَفَعَلَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: أَيْنَ الْجَنَازَةُ؟ قَالَ: قَالَ: خَلْفَكَ، قَالَ: قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ، قَالَ: سَمِعَ امْرَأَةً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّةً تَرْثِي (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ) فَقَالَ: مَهْ، أَلَمْ أَنْهَكُنَّ عَنْ هَذَا؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْمَرَاثِي لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ، فَلَمَّا وَضِعَتِ الْجَنَازَةُ تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ هُنَيَّةً فَسَبَّحَ بِهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً، فَلَمَّا وَضِعَتِ الْجَنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا فَسُئِلَ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَقَالَ: تَلَقَّانَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرٌ أَهْلِيَّةٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا فَذَبَحُوهَا، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي بِبَعْضِهَا إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَهْرِيقُوهَا، قَالَ فَأَهْرَقْنَاهَا، وَرَأَيْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔
حدیث نمبر: 3203
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ عَلَى فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، تَحْتَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ سَرْجٌ، مَعَهُ النَّاسُ وَهُمْ حَوْلَهُ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَسِيرُ حَوْلَهُ الرِّجَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیّدنا ثابت بن دحدحہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، اس کا منہ اور چاروں پاؤں سفید تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے کوئی زین وغیرہ بھی نہیں تھی، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد چل رہے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتر کر نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ تدفین سے فارغ ہوگئے،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر چلنے لگے، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد چل رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم اور مسند احمد کی دوسری روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ثابت بن دحداحہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدگھوڑے پر سوار ہوئے، لیکن اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وقت بھی سوار ہو کر گئے تھے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، جبکہ درج ذیل روایت سے بھی جاتے وقت پیدل چلنا ہی ثابت ہوتا ہے:
حدیث نمبر: 3204
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ يَتَوَقَّصُ، وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیّدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شریک تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، جو اچھلتا ہوا جا رہا تھا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد دوڑرہے تھے۔
حدیث نمبر: 3205
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی جہاں مرضی چلے اور بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3206
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا عَنْ يَمِينِهَا أَوْ عَنْ يَسَارِهَا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوارجنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی اس کے سامنے اور دائیں بائیں قریب قریب چل سکتا ہے اور نامکمل مردہ پیدا ہو جانے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3207
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَي الْجَنَازَةِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جنازے کے آگے آگے چلتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان بھی جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 3208
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 3209
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي فَتَصْرِفَ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ عَلِيٌّ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ))، قَالَ لَهُ عَمْرٌو: كَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ خَلْفَهَا؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ مِنْ خَلْفِهَا عَلَى بَيْنَ يَدَيْهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَحْدَةِ، قَالَ عَمْرٌو: فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهُمَا إِنَّمَا رَأَيَا أَنْ يُحْرِجَا النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن یسارکہتے ہیں: سیّدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ ، سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حسن کی عیادت کے لیے آئے ہیں، جب کہ آپ کے دل میں ا ن کے خلاف جذبات ہیں۔ یہ سن کر سیّدناعمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے رب نہیں کہ میرے دل کو جدھر چاہیں پھیر سکیں۔سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: بہرحال یہ چیز آپ کو نصیحت کی بات کہنے سے مانع نہیں بن سکتی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی اپنے کسی بھائی کی تیمارداری کے لیے جائے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس کے لیے رحمت کی دعا کرنے کے لیے بھیجتا ہے، اگر یہ عمل دن کے کسی وقت میں ہو تو یہ فرشتے شام تک اور اگر رات کو ہو تو صبح تک دعا کرتے رہتے ہیں۔ پھر سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جنازہ کے آگے یا پیچھے چلنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو آگے چلنے والے پر اس طرح فوقیت حاصل ہے، جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کو اکیلے پڑھنے والے پر ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کو جنازہ کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا:چونکہ انہوں نے (ایک جہت میں ہی رہ کر) لوگوں کو مشقت میں ڈالنا اچھا نہ سمجھا، (اس لیے ایسے کیا تھا)۔
حدیث نمبر: 3210
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسِيرِ بِالْجَنَازَةِ فَقَالَ: ((مَطْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازے کے پیچھے رہا جائے، اس کو اپنے پیچھے نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 3211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَتْبَعُ الْجَنَازَةَ صَوْتٌ وَلَا نَارٌ وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آواز اور آگ کو جنازے کے پیچھے لگایا جائے اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جنازے کے ساتھ پیدل جانا چاہیے، بہرحال سوار ہو کر جانا بھی جائز ہے، جنازے کے ساتھ والے پیدل لوگ جنازے کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کہیں بھی چل سکتے ہیں، افضل یہی ہے کہ پیچھے چلا جائے، کیونکہ عام احادیث کا بھی یہی تقاضا ہے اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی بڑا واضح ہے، سوار لوگوں کو پیچھے ہی رہنا چاہیے، واپسی پر بلا کراہت سوار ہونا جائز ہے۔