کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو¤اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3187
عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُتِيَ بِجَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ، فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ: احْفَظُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو غالب کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مرد کا جنازہ لایا گیا، پس وہ چارپائی (یعنی میت) کے سر کے پاس کھڑے ہوئے، پھر جب عورت کا جنازہ لایا گیا تو وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد نے ان سے کہا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مرد اور عورت کے جنازہ میں اسی طرح کھڑے ہوا کرتے تھے، جس طرح میں نے آپ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر علاء بن زیاد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یہ مسئلہ یاد کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہٖ۔ (اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے) ’’وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔‘‘اس کی وضاحت بھی ابوداود کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: فَقَامَ عِنْدَ عَجِیْزَتِھَا۔ (پس وہ اس کے سرین کے پاس کھڑے ہوئے)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3194، وابن ماجه: 1494، والترمذي: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12204»
حدیث نمبر: 3188
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُمِّ كَعْبٍ) مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسْطَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام فلاں(یعنی سیدہ ام کعب رضی اللہ عنہا ) ، جو نفاس کی حالت میں فوت ہوئی تھیں، کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ امام کو مرد میت کے سر کے سامنے اور عورت میت کے سرین کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے،امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے ایک قول کے مطابق امام ہر میت کے سینے کے برابر کھڑا ہو گا، وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ان روایات کی روشنی میں پہلا مسلک قوی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3188
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:332، 1331، ومسلم: 964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20424»
حدیث نمبر: 3189
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،سیّدناابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ، ان کے پیچھے کھڑی ہوگئیں، وہ مرغ کی کلغی کی طرح لگ رہے تھے، سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی۔
وضاحت:
فوائد: … مرغ کی کلغی سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے تھے، جیسے مرغ کی کلغی پر ابھرے ہوئے لگاتار نشان ہوتے ہیں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیں باب: ’’نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3189
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضيعف لجھالة أم يحيي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13303»