کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 3181
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى جَنَازَةٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ رَزَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت پر نماز جنازہ میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: أَنْتَ خَلَقْتَہَا وَأَنْتَ رَزَقْتَہَا، وَأَنْتَ ہَدَیْتَہَا لِلإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَہاَ، تَعْلَمُ سِرَّہَا وَعَلَانِیَتَہَا، جِئْنَا شُفْعَائَ فَاغْفِرْلَہَا۔ (تونے اسے پیدا کیا، تو نے اس کو رزق دیا،تونے اسے اسلام کی طرف ہدایت دی، تونے اس کی روح کو قبض کیا اور تو ہی اس کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں، پس تو اس کو بخش دے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3181
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، فيه ثلاث علل:(1) اضطراب وقع في اسناده، و(2) جهالة بعض رواته و (3) رواية بعضھم موقوفا علي أبي ھريرة أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 292، 10/ 410، والبيھقي: 4/ 42، والنسائي في ’’عمل اليوم والليلة‘‘: 1076، والطبراني: 1182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7471»
حدیث نمبر: 3182
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَ ذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا، اَللّٰہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہٖ عَلَی الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الْإِیْمَانِ۔ (اے اللہ! تو ہمارے زندوں اور فوت شدگان کو، حاضرین اور غائبین کو، چھوٹوں اور بڑوں کو اور ہمارے مردوں اور عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھنا چاہے، اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو فوت کرنا چاہے، اس کو ایمان پر فوت کر)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3182
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه و شواهده، وھذا اسناد ضعيف لضعف ايوب بن عتبة أخرجه ابوداود: 3201، والترمذي: 1024، وابن ماجه: 1498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8795»
حدیث نمبر: 3183
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجال اسناد ثقات رجال الشيخين، لكن اختلف فيه علي يحيي بن ابي كثير أخرجه الطبراني في ’’الدعائ‘‘: 1171، والنسائي في ’’عمل اليوم والليلة‘‘: 1086، والبيھقي: 4/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17688»
حدیث نمبر: 3184
وَعَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوابراہیم انصاری نے بھی اپنے باپ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3184
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ابوابراهيم وابوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه علي يحيي بن ابي كثير أخرجه الترمذي: 1024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17684»
حدیث نمبر: 3185
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ایک جنازے میں) یہ دعا کرتے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَہْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اَللّٰہُمَّ فَاغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری حفاظت اور عہد و امان میں ہے، پس اسے قبر کے فتنے اور آگ کے عذاب سے بچا،تو وفا والا اور حق والا ہے، اے اللہ! پس اس کو بخش دے ور اس پر رحم فرما، پس بیشک تو بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی روایت میں ’’اَللّٰھُمَّ‘‘ کی جگہ پر ’’اَلَا‘‘ کے الفاظ ہیں، اس سے مراد میت کے لیے دعا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3202، وابن ماجه: 1499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16114»
حدیث نمبر: 3186
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ (الْأَشْجَعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنَ النَّارِ وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت کی نماز جنازہ پڑھتے دیکھا، میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ واعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الْثَوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا مِنْ أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَنَجِّہِ مِنَ النَّارِ وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے، اس کو معاف کر دے،اس کی قیام گاہ کو عزت والا بنا، اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے، اس کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اس کو گناہوں سے یوں پاک کر دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا، تو اس کے گھر کی بہ نسبت اچھا گھر، اہل کی بہ نسبت اچھے اہل اور بیوی کی بہ نسبت اچھی بیوی عطا فرما، اس کو جنت میں داخل کر دے اور اس کو آگ سے نجات عطا فرما اور قبر کے عذاب سے بچا لے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3186
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24475»