کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 3158
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: ((أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي))، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجَمْتَهَا، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسَعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَّ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اقرار کیا اور بتلایا کہ وہ اس وقت حاملہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتلانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے متعلق حکم دیا، سو اس پر اس کا لباس اچھی طرح باندھ دیا گیا اور پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے تو اسے رجم کیا اور اب اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کو تمام اہل مدینہ میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو کفایت کر جائے گی۔ بھلا کیا تم نے اس سے افضل چیز بھی پائی ہے کہ اس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جو فرد شرعی حد کی وجہ سے وفات پا جائے، اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3158
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1696 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19861، 19903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20101»
حدیث نمبر: 3159
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَبِيكَ جُنُونٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو اسلم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا، اس نے پھر اعتراف کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے عیدگاہ یا جنازہ گاہ میں لے جا کر رجم کیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا،لیکن پھر اسے پا لیا گیا اور اسے مزید پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں خیر والی باتیں کہیں اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دونوں روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کے فوراً بعد نماز نہیں پڑھی، بلکہ بعد میں ادا کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3159
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6820، ومسلم: 1691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14516»