کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3154
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھنا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3154
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداود: 3187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26836»
حدیث نمبر: 3155
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّي بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ))، قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان خیبر میں فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں (مالِ غنیمت میں سے) خیانت کی ہے۔ پھر ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی ملے، جو دو درہموں کے برابر تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بلاشک و شبہ مسلمانوں کو خائن کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نماز ادا نہ کرنا، اس سے مقصود لوگوں کو زجرو توبیخ کرنا تھا، تاکہ دوسرے لوگ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے سے باز رہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس سنت پر عمل کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ شہر کے مشہور و معروف علمائے دین ایسے مجرموںکے جنازے میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے خائن لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہموں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3155
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداود: 2710، والنسائي: 4/ن 64، وابن ماجه: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17031، 21675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17156»
حدیث نمبر: 3156
عَنْ سِمَاكَ (ابْنِ حَرْبٍ) أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ: ((لَمْ يَمُتْ))، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَيْفَ مَاتَ؟))، قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ: ((إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہو گیا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فوت نہیں ہوا۔ اس نے دوبارہ اور پھر سہ بارہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی بات بتلائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے موت کس طرح آئی ہے؟ اس نے کہا کہ اس نے ایک چوڑے تیر کے ذریعے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھرمیں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابن ماجہ (۱۵۲۶) اور مسند احمد (۲۰۸۸۳) کی دوسری روایت کے آخر میں راویٔ حدیث کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں: کُلُّ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ۔ یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک تادیبی کاروائی تھی، تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور ایسا اقدام کرنے سے باز رہیں۔ خودکشی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بہرحال عام مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 978 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20816، 20848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»
حدیث نمبر: 3157
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: ((شَأْنُكُمْ بِهَا))، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ کے لیے بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے تھے،اگراس کے حق میں بھلائی کی باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے، لیکن اگر اس کے برعکس باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم خود اس کا کچھ کر لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اورشروع شروع میں مقروض کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث میں برعکس باتوں سے مراد کون سے نقائص ہیں،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3157
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن حبان: 3057، وعبد بن حميد: 196، والحاكم:1/ 364 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22922»