کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3151
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَقَالَ: ((إِنَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ، وَهُوَ صِدِّيقٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ ، جو سولہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کے لیے جنت میں (خواتین) ہیں جو اس کی رضاعت مکمل کریں گی، (یہ میرا بیٹا) صِدِّیق ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، صحیح روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی، وہ تمام روایات جن میں ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر ہے، سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ اس مسئلہ کے لیے ملاحظہ ہو: (نصب الرایۃ: ۲/ ۲۷۹،زاد المعاد: ۱/ ۵۱۳)
حدیث نمبر: 3152
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((السِّقْطُ (وَفِي رِوَايَةٍ الطِّفْلُ) يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3153
عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسمٰعیل سدی کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیمؓ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں کہا، مجھے معلوم نہیں۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، وہ اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہی فوت گئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد