کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی¤(بخشش کی) امید کا بیان
حدیث نمبر: 3143
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّانِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمُوتُ فَيُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ))، قَالَ: فَكَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ يَتَحَرَّى إِذَا قَلَّ أَهْلُ الْجَنَازَةِ أَنْ يَجْعَلَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن فوت ہو جائے اور تین صفوں پر مشتمل مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیّدنا مالک بن ھبیرہ رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ جنازہ میں نمازیوں کی تعداد کم ہے تو ان کی تین صفیں بنا لیتے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلٰی جَنَازَۃٍ وَمَعَہٗ سَبْعَۃُ نَفَرٍ، فَجَعَلَ ثَـلَاثَۃً صَفًّا، وَاثْنَیْنِ صَفًّا وَاثْنَیْنِ صَفًّا۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات افراد تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کو ایک صف میں، دو کو ایک صف میں اور بقیہ دو کو ایک صف میں کھڑا کیا۔ (معجم کبیر للطبرانی، وفیہ ابن لھیعۃلکنہ مستشھد بحدیث مالک بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3143
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اس كي سند ميں محمد بن اسحاق راوي مدلس هے، ليكن شيخ الباني نے فوائد ميں مذكور حديث كي بنا پر اس كو قابل حجت قرار ديا هے۔ أخرجه ابن ماجه: 1490 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16844»
حدیث نمبر: 3144
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مَائَةً، فَيَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر ایک سو آدمیوں کی جماعت نمازجنازہ پڑھ کر سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 947 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24539»
حدیث نمبر: 3145
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 947 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13840»
حدیث نمبر: 3146
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت جائے اور اس کے جنازے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے چالیس آدمی کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 948 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2509»
حدیث نمبر: 3147
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ))، قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مَائَةٍ فَصَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے والی ایک امت ہو تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ ابوملیح راوی کہتا ہے: چالیس سے سو اور اس سے زائد تک کے افراد کو امت کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ابو ملیح کی یہ تفسیر مذکورہ بالا احادیث کے مفہوم کے موافق ہے، کیونکہ ایک حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے اور ایک میں سوکا۔ ان احادیث میں نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے شریک ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بہرحال ان کا اہل توحید اور اہل اخلاص ہونا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3147
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 1060، وابن ابي شيبة: 3/ 321، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 5/ 113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27348»