کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 2968
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لِي النَّاسَ لِيَغْزُونِي وَهُوَ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اعْنِتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ، قَالَ: ((إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً))، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا، وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُّ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشْعَرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَٰذَا الرَّجُلِ، فَجَاءَ كَذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي، حَمَلْتُ عَلَيْهِ السَّيْفَ، حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي فَقَالَ: ((أَفْلَحَ الْوَجْهُ))، قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((صَدَقْتَ)) الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح میرے مقابلہ کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت عُرَنَہ مقام میں ہے، تم جا ؤ اور اسے قتل کر دو ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کوئی علامت بیان فرمائیں ،تاکہ میں پہچان لوں کہ یہ وہی شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو اس کی وجہ سے ایک دفعہ تم پر جھرجھری طاری ہو گی۔ پس میں نے تلوار لی اور اس کے پاس جا پہنچا۔ وہ واقعی عرنہ مقام میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا اور وہ ان کے لیے جگہ بنا رہا تھا۔ اُدھر نمازِ عصر کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مجھ پر جھرجھری طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے جو نماز سے غافل کر دے۔ اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے ہی نماز پڑھنا شروع کر دی، اشارے سے رکوع و سجود کرتا گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں نے کہا : ایک عربی ہوں، آپ کے بارے سنا ہے کہ آپ اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے مقابلے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہے ہو، اسی لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں، اس نے کہا: جی ہاں، میں اسی کوشش میں ہوں۔ پس میں اس کے ساتھ چلتا رہا، جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا اور اس حال میں وہاں سے نکل آیا کہ اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: کامیاب رہے ہو۔ میں عرض کیا: اے رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک کہتے ہو۔ الحدیث۔
حدیث نمبر: 2969
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنَّ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 2970
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو چھڑا دینے والی کو کثرت سے یاد کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے مجاہدین سے کہا تھا کہ اگر (دوران نماز) دشمن حملہ کر دیں تو تمہارے لیے (نماز کی حالت میں ہی) لڑنا جائز ہو گا۔ (مسنداحمد: ۲۳۴۳۳)