کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز خوف کی تیسری صورت¤ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
حدیث نمبر: 2957
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پر ہی اکتفا کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کی تھیں، سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ انْصَرَفَ ھٰؤُلَائِ اِلٰی مَکَانِ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ أُولٰئِکَ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَۃً وَلَمْ یَقْضُوْا۔ یعنی: پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی جگہ پر چلا گیا اور وہ اِدھر آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضائی نہیں دی۔ یہ مسئلہ درج ذیل حدیث، جو نماز خوف والے ابواب کے شروع میں گزر چکی ہے، سے بھی ثابت ہوتا ہے: عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْVعَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسلم: ۶۸۷) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الخوف وهى أنواع / حدیث: 2957
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2063، 21592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21928»
حدیث نمبر: 2958
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الخوف وهى أنواع / حدیث: 2958
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 174 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14229»
حدیث نمبر: 2959
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
وضاحت:
فائدہ: … ممکن ہے کہ اس حدیث میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جو سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہو چکا ہے، اگر یہ تسلیم کیا جائے تو پھر مقتدیوں کی بھی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بہرحال دوسری احادیث سے صرف ایک رکعت کا ثبوت بھی فراہم ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الخوف وهى أنواع / حدیث: 2959
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035، والنسائي: 3/ 174 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10775»