حدیث نمبر: 2944
عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَٰذَا؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہم پر بارش کا نزول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا، یہاں تک کے اسے بارش کا پانی پہنچا، آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
حدیث نمبر: 2945
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قِيلَ لَهُ: أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هَٰذَا بَرَكَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اوپر اولے برسائے گئے اور سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ روزے دار تھے، نے یہ اولے کھانا شروع کر دیئے۔ کسی نے ان سے کہا: کیا تم یہ کھا رہے ہو، حالانکہ تم روزے دار ہو؟ انہوں نے کہا: بے شک یہ برکت ہیں۔
حدیث نمبر: 2946
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔ (اے اللہ! اس کو نفع مند بارش بنا دے)۔