کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
حدیث نمبر: 2943
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: ((هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، یہ رات کو بارش ہونے کے بعد کا موقع تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بعض بندوں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور بعض ستاروں پر ایمان رکھنے والے اور میرے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ)جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والا اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے یہ کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی ہے، تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الاستسقاء / حدیث: 2943
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 846، 1038، ومسلم: 71 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17187»