کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
حدیث نمبر: 2942
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ، وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے کبھی کبھی شاعر کا یہ قول یاد آجاتا ہے، جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہوںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بارش کے لیے دعا کررہے ہوتے ہیں اور ابھی اس سے اترتے نہیں کہ ہر پرنالہ پانی کی کثرت سے بہہ پڑتا ہے۔مجھے شاعر کا یہ قول یاد آتا ہے: وہ سفید رنگ والا کہ جس کے چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کا ملجأ و مأوی ہے اور بیوہ عورتوں کے لیے ڈھال ہے۔ یہ ابو طالب کا قول ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الاستسقاء / حدیث: 2942
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف عمر بن حمزة بن عبد الله أخرجه ابن ماجه: 1272، وعلّقه البخاري: 1009 بصيغة الجزم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5673»