کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
حدیث نمبر: 2919
عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَٰذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ" يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ مَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میں نے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میں سے ہر ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 86، 1235، 1373، مسلم: 905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27464»
حدیث نمبر: 2920
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سورج کو گرہن لگا، اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ (حمد و ثناء کے بعد)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2920
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لجھالة ثعلبة بن عباد أخرجه النسائي: 3/ 152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20442»
حدیث نمبر: 2921
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ آيَةً (فَذَكَرَتْ نَحْوَا الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ) فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَغَ مِنْ سَجْدَتِهِ الْأُولَى قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا طَوِيلًا حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَ مَنْ يُصَلِّي يَنْتَضِحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَإِلَى الصَّدَقَةِ وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَٰذَا، وَقَدْ أُرِيتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ، يُسْأَلُ أَحَدُكُمْ مَا كُنْتَ تَقُولُ وَمَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنْ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَأَيْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَصْنَعُونَ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ، قِيلَ لَهُ أَجَلْ، عَلَى الشَّكِّ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ هَٰذَا مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ، وَإِنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قِيلَ: عَلَى الْيَقِينِ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ، هَٰذَا مَقْعَدُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ سُورَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ))، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ))، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: ((أَبُوكَ فُلَانٌ)) الَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، میں نے لوگوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: نشانی، نشانی۔(پھر گزشتہ حدیث کی طرح اس نے حدیث بیان کی۔ اس میں مزید امور یہ بھی ہیں:) میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (جب میں پہنچی تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی رکعت سے فارغ ہو چکے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ میں نے بعض نماز پڑھنے والے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پانی کے چھینٹے مار رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا، یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج صاف ہوچکا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، جب تم ان کواس طرح دیکھو تو نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے کی طرف لپکو۔ اے لوگو! کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو میں نے نہیں دیکھی تھی، مگراس مقام میں دیکھ لی اور میں نے تم کو بھی دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جا رہے ہو، تم میں سے ہر ایک سے سوال کیا جا رہا ہے کہ توکیا کہتا تھا؟ تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر کوئی جواباً یہ کہے گا: میں تو نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے ہوئے سنا، خود بھی وہی کہہ دیا، ان کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا، خود بھی وہی کچھ کر دیا۔ اس جواب پر اسے کہا جائے گا: اچھا، ٹھیک ہے، تو نے شک پر زندگی گزار دی اور اسی پر تو مرا، یہ آگ تیرا ٹھکانا ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو اسے کہا جائے گا: تو نے یقین پر زندگی بسر کی اور تو اسی پر مرا، یہ جنت کا تیرا ٹھکانہ ہے۔ یقینا میں نے پچاس یا ستر ہزار لوگوں کو دیکھا کہ وہ چودہویں رات کے چاند جیسا چہرہ لے کر جنت میں داخل ہو رہے تھے۔)) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: (اے اللہ کے رسول!) اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ان میں داخل کردے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ان میں داخل کردے۔ لوگو! میرے اترنے سے پہلے تم جس چیز کا بھی سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں شخص ہے۔ (یعنی اسی آدمی کا نام لیا) جس کی طرف اس کو منسوب کیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2921
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، انفرد به فليح بن سليمان الخزاعي، وھو ممن لايحتمل تفرّده، ولم يذكروا لمحمد بن عباد بن عبد الله سماعا من أسماء بنت أبي بكر۔ ولبعضه شواھد أخرجه ابن خزيمة: 1399، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 240 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27532»
حدیث نمبر: 2922
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: وَلَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سورج گرہن کی نماز میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1054، 2519، 2520 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27463»
حدیث نمبر: 2923
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ) إِنْ كُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ہمیں نمازِ کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27462»
حدیث نمبر: 2924
)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟!
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2924
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1044، 5221، ومسلم: 901 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25826»