کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
حدیث نمبر: 2918
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: فَزِعَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَ مَا رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ رَكَعَ، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جس دن سورج کو گرہن لگا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جلدی میں کسی بیوی کی) قمیص پکڑ لی (اور مسجد کی طرف نکل پڑے، پیچھے سے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی چادر پہنچا دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو لمبا قیام کروایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع کرنے کے بعد آجاتا تو وہ یہ نہ جان سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کرلیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اس بات کا قائل نہ کر سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کر لیا ہے۔ سیدہ اسماء کہتی ہیں: پس میں اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے بڑی تھی ، پھر اس عورت کی طرف دیکھتی جو مجھ سے کمزور تھی، پھر میں اپنے آپ سے کہتی کہ میں زیادہ حقدار ہوں کہ لمبے قیام پر صبر کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 86، 1235، 1373، مسلم: 905، 906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26925، 26954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27508»