کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں¤نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
حدیث نمبر: 2904
عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنُعَذَّبُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَ: ((عَائِذٌ بِاللَّهِ))، فَرَكِبَ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَةِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى النَّاسُ وَرَاءَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ يَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَهُمْ وَإِذَا امْرَأَةٌ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ هَٰذِهِ؟ قِيلَ لِي حَبَسَتْهَا حَتَّى مَا تَتْ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت کوئی سوال کرنے کے لیے میرے پاس آئی، اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تومیں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا،پس میں نکلی اور ابھی تک عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آ گئے اور نماز کی جگہ پر تشریف لے آئے اور (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا،پھر اپنا سر اٹھایا اور (قومہ میں) لمبی دیر کے لیے کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور طویل سجدہ کیا، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے) اور پہلی رکعت سے مختصر قیام کیا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔ اس طرح (دو رکعت نماز میں) چار رکوع اور چار سجدے تھے، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے کی طرح قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد میں سنتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1049، 1050، 1055، 1056، ومسلم: 907 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24772»
حدیث نمبر: 2905
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ وَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ))، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ))، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ))، وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: فَإِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام زہری ، عروہ بن زبیر سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں پھر آپ نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قراءت کی،پھر اللہ اکبر کہااور لمبا رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ کر کھڑے ہوئے اور پھر قیام شروع کر دیا اور سجدہ نہ کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قراءت کی، البتہ وہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہا اور پھر سجدہ کیا، دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ (ان دو رکعتوں میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اُدھر سلام پھیرنے سے قبل سورج صاف ہوگیا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے حمد و ثنا بیان کی جن کا وہ اہل ہے اور پھر فرمایا: بے شک یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر نماز کی طرف پناہ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1046، ومسلم: 902 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25078»
حدیث نمبر: 2906
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، قَالَتْ: فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ يَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَهُمْ وَإِذَا امْرَأَةٌ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ هَٰذِهِ؟ قِيلَ لِي حَبَسَتْهَا حَتَّى مَا تَتْ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر قیام شروع کر دیا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ، پھر سر اٹھایا اور پھر طویل سجدہ کیا، (پھر دوسری رکعت مکمل کی) اور نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: جنت میرے اتنے قریب کی گئی کہ اگر میں جرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور آگ بھی اتنی قریب کی تھی کہ میں نے کہا: اے میرے رب! (تو ان کو عذاب دینے لگا ہے) حالانکہ میں ان میں موجود ہوں۔ اچانک وہاں ایک ایسی خاتون جس کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ مجھے کہا گیا کہ اس عورت نے ایک بلی کو قید کیا تھا، حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی، اس نے نہ خود اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 745، 2364 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27503»
حدیث نمبر: 2907
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ (الْحَدِيثُ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔(باقی حدیث ایسے ہی ہے جیسے گزر چکی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2907
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27504»
حدیث نمبر: 2908
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے (نماز کا) قیام شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سورت تلاوت کی، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر قراءت شروع کر دی، پھر رکوع کیا اور دو سجدے کیے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور قراءت کی اور رکوع کیا، پھر دو سجدے کیے، اس طرح یہ دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1046، ومسلم: 902 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1864»
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى قَالَ أَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، قَالَ أَبِي وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ؟ فَقَالَ: ((إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ))، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((بِكُفْرِهِنَّ))، قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: ((يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سورج بے نور ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بقرہ جتنا لمبا قیام کیا، پھرطویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا، جو کہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: اور جو میں نے عبد الرحمن پر پڑھا، اس کے مطابق انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا، پس لمبا قیام کیا، البتہ وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہو گئے۔ پھر امام احمد اسحاق کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا، جبکہ سورج صاف ہوچکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کوئی چیز پکڑ رہے تھے اور پھر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اس کے ایک گچھے کو پکڑنا چاہا تھا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا (اور تمہارے پاس لے آتا) تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے رہتے اور میں نے آگ کو دیکھا، پس آج جیسا (ہولناک) منظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے اس میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ ہے۔ کسی نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کی قدر نہیں کرتیں، اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرتا رہے، لیکن جب وہ تجھ سے کوئی کمی ہوتی ہوئی دیکھے گی تو کہہ دے گی کہ اس نے تجھ سے خیر والا معاملہ دیکھا ہی نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطوّلا و مقطعا البخاري: 29، 431، 748، 1052، 3202، 5197، ومسلم: 907 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2711»
حدیث نمبر: 2910
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَخَرَجَ عُثْمَانُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّتِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَاكْتَسَبْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوشریح خزاعی کہتے ہیں:سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، مدینہ منورہ میں سیّدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے اورلوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے تھے، جب سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج اور چاند کے گرہن کے وقت ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، جب تم دیکھو کہ ان کو گرہن لگ گیا ہے تو نماز کی طرف لپکو، اگرتو یہ وہی چیز ہوئی، جس کا تم کو ڈر ہے، تو (اس نماز کی وجہ سے) تم غافل نہیں ہو گے اور وہ چیز نہ ہوئی تو خیر کو پا لو گے اور ثواب کماؤ گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2910
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف سفيان بن أبي العوجاء السلمي أخرجه البزار: 674، وأبويعلي: 5394، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9782۔ وصلاة الكسوف وردت من أحاديث عدد من الصحابة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4387»
حدیث نمبر: 2911
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِيَ عَنْهُ شَكَّ هِشَامٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا، فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس کے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2911
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 904 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15082»