کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی)¤عام رکعات کی طرح ہوں گی
حدیث نمبر: 2895
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ))، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِيمَا نُرَى بَعْضَ {الٓركِتَابٍ} ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔
حدیث نمبر: 2896
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَيْسَ بِرَاكِعٍ ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدْ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدْ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، وَجَعَلَ يَقُولُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ)) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضَى صَلَاتَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كَسَفَ أَحَدُهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ أَشَاءُ لَتَعَاطَيْتُ بَعْضَ أَغْصَانِهَا وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ حَتَّى إِنِّي لَأُطْفِئُهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ بِهِرَّةٍ لَهَا تَرْبِطُهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَا تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ كُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَهَشَتْهَا، وَكُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَهَشَتْهَا وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَابَنِي دَعْدَعٍ وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِذَا عَلِمُوا بِهِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُكُمْ، إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتا اورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
حدیث نمبر: 2897
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْيَةَ أَنْ يَغْشَاكُمْ حَرُّهَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا سَارِقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اس میں ہے : اور مجھ پر آگ کو پیش کیا گیا ، میں اس پر اس ڈر سے پھونک مار رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی گرمی تم کو ڈھانپ لے اور میں نے اس میں اللہ کے رسول کے دو اونٹ چوری کرنے والا شخص بھی دیکھا ۔‘‘
حدیث نمبر: 2898
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر تمہاری نماز کی طرح کی نماز پڑھی کہ اس میں رکوع اور سجدہ بھی کیا۔
حدیث نمبر: 2899
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَالَ حَجَّاجٌ مِثْلَ صَلَاتِنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں رکوع و سجود کیے، حجاج نے کہا: وہ ہماری نمازکی طرح ہی تھی۔
حدیث نمبر: 2900
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ! لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَٰذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ قَالَ: وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ زُهَيْرٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ): حَسِبْتُهُ، قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ))، قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ ثُمَّ سَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَٰذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَٰذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَٰذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَٰكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ! لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، آخِرُهُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ أَوْ قَالَ مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَبَقَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ) وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُونَ زَلْزَالًا شَدِيدًا ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجُنُودَهُ حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ، وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْيَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي أَوْ قَالَ يَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ! أَوْ قَالَ يَا مُسْلِمُ! هَٰذَا يَهُودِيٌّ أَوْ قَالَ هَٰذَا كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا، وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَٰذَا الْحَدِيثَ، فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثعلبہ بن عباد عبدی، جو اہل بصرہ میں سے تھے، کہتے ہیں: میں ایک دن سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے اس خطبے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا عہد ِ نبوی میں دو نشانوں کے درمیان تیر پھینک رہے تھے، جب سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو تین نیزے بلند ہوا تو وہ کالا ہونا شروع ہو گیا اور (سیاہ رنگ کا پھل) تنومہ کی طرح ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مسجد کی طرف چلیے، اللہ کی قسم! سورج کی یہ کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس امت میں کوئی نیا حکم پیدا کرے گی، پس ہم مسجد کی طرف بھاگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی باہر آئے ہوئے تھے، پھر جب آپ لوگوں کے پاس آئے تو آگے بڑھے اور (نماز شروع کر دی) اور اتنا لمبا قیام کروایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی نماز میں کبھی بھی ایسی طوالت اختیار نہیں کی تھی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی لمبا رکوع کیا کہ کبھی بھی ہمیں ایسا رکوع نہیں کروایا تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھے تو سورج بھی صاف ہو گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ شہادت دی کہ آپ خود اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے رب تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو تم مجھ کو اس کی خبر دو گے، (میں خود تو یہ کہتا ہوں کہ) میں نے اپنے رب کے پیغامات کے اس طرح پہنچا دئیے، جس طرح پہنچانے کا حق تھا، بہرحال اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں تو تم مجھے اس کی خبر دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں اور آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کردی ہے اور جو حق آپ پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:حمد و ثناء کے بعد، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کا بے نور ہو جانا اور ستاروں کا اپنے مقام سے ہٹ جانا اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ جھوٹے ہیں،یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتاہے اور پھر وہ دیکھتاہے کہ ان میں سے کون اس موقع پر توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب میں اس نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے وہ سارا کچھ دیکھ لیا جس کو تم دنیا و آخرت میں ملنے والے ہو۔اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ، جب تک تیس کذاب نہ نکل آئیں، ان میں سے آخری دجال ہوگا، جو کانا ہو گا اور جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا کہ وہ ابویحیی کی آنکھ ہے۔ یہ ایک انصاری شیخ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دجال نکلے گا تو وہ یہ دعوی کرے گا کہ وہی اللہ ہے، پس جو شخص اس کے ساتھ ایمان لائے گا،اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا تو سابقہ نیک اعمال بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، (یعنی اس کے اعمال صالحہ ضائع ہو جائیں گے)۔اور جس نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی تکذیب کردی تواس کا اس کے سابقہ (برے) اعمال کی وجہ مؤاخذہ نہیں ہو گا، (یعنی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے)۔ بے شک وہ دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا، ما سوائے حرم اور بیت المقدس کے، وہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کردے گا اور ان کو انتہائی سختی سے ہلا دیا جائے گا، (یعنی وہ اِس کی وجہ سے سخت گھبراہٹ، تنگی اور پریشانی میں ہوں گے)۔ پھر اللہ اس کو اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا، حتیٰ کہ دیوار کی بنیاد یا درخت کا بنیادی تنا پکار پکار کر کہے گا: او مومن! او مسلمان! یہ یہودی (چھپا ہوا) ہے، یہ کافر ہے، ادھر آ اور اس کو قتل کر دے۔ لیکن یاد رکھو کہ دجال والا یہ معاملہ اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تلک تم بڑے بڑے امور نہ دیکھ لو گے اور جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی نے ان کا کوئی ذکر کیا تھا، بطور مثال پہاڑ اپنی جگہوں سے سرک جائیں گے، پھر اس کے بعد قیامت بپا ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 2901
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَلَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ))، قَالَ وَكَانَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَاتَ، ((فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مِنْهُمَا مَا بِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ کھڑے ہوئے اور کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی جلدی مسجد پہنچے اور لوگ بھی لگاتار جمع ہونا شروع ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سورج کا گرہن ختم ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، یہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ اس دن دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا(ابراہیم رضی اللہ عنہ ) فوت ہوا تھا۔ پس جب تم ان میں سے اس قسم کی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، حتیٰ کہ وہ چیز ختم ہو جائے، جس میں تم مبتلا ہو۔
حدیث نمبر: 2902
عَنْ قَبِيصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ، فَانْجَلَتْ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں قراءت کو لمبا کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتاہے، پس جب تم اس چیز کو دیکھو تو جو تم نے تازہ تازہ فرض نماز پڑھی ہے، اس کی طرح کی نماز پڑھو۔