حدیث نمبر: 2892
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ (وَفِي لَفْظٍ صَلَاةَ الْخُسُوفِ) فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔
حدیث نمبر: 2893
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَقَالَ: فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ کسی نماز میں بھی اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں بھی نہیں کیا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2894
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ … )) الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت کی اور جہری قراءت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراءت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے … ۔