کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
حدیث نمبر: 2689
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَٰذَا أَوْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَٰذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟)) قَالَ: فَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی،اس کے بعد جب ایک آدمی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اس سے تجارت کرے یا صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟ پھر ایک آدمی نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2690
عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ بِالْبَلَاطِ وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَوِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلیمان کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ بلاط نامی جگہ پر تھے اور لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک نماز کو دن میں دو مرتبہ نہ پڑھا کرو۔