کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
حدیث نمبر: 2682
عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا أَوِ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: ((ائْتُونِي بِهَٰذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ))، فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةً))، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، قَالَ: وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُهُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا یزید بن اسود کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے تو دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو آدمی بیٹھے ہیں، انھوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ ان دونوں آدمیوں کو لایا گیا، جبکہ ان کے شانوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا اور جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر وہ امام کے ساتھ نماز کوپالے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل بن جائے گی ۔ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے استغفار کیا۔ پھر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھے اورمیں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں بہترین جوان اور قوی تھا، اس لیے میں لوگوں کو ہٹاتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے عمدہ اور ٹھنڈی ہو، اس دن آپ (منی میں) مسجد خیف میں تھے۔
حدیث نمبر: 2683
عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لِي: ((أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟)) قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ: ((فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن میں بیٹھا رہا (اور نماز نہ پڑھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکے رکھا؟ میں نے کہا: جی، میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز پڑھا کر۔ اور ایک روایت میں ہے: جب تو آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ تو اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو۔
حدیث نمبر: 2684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ مِحْجَنًا كَانَ فِي مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟)) وَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں تھا، جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو دیکھا کہ محجن اسی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے،کیا تو مسلمان نہیں ہے۔ … … ۔ (سابقہ حدیث کی طرح)
حدیث نمبر: 2685
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فِي بَيْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرِ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي، فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَمَضَيْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: ((مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ! أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي، قَالَ: ((وَإِنْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ بن علی اسلمی،بنو الدیل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے گھر میں نماز ظہر ادا کی، پھر میں اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ ان کو چرواہے کی طرف لے جاؤں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، میں تو وہاں سے گزرگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب میں اونٹوں کو آگے بڑھا کر واپس لوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلا دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے فلاں! جب تو ہمارے پاس سے گزرا تھا تو کس چیز نے تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے گھر میں نمازپڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ (تو گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، لیکن جب امام کے ساتھ نماز مل جائے تو دوبارہ پڑھ لیا کر)۔
حدیث نمبر: 2686
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ عَلَى فَخِذِكَ وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ: ((صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ وَلَا أُصَلِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوالعالیہ براء کہتے ہیں: ایک دن ابن زیاد نے نماز کو مؤخر کیا، میرے پاس عبد اللہ بن صامت آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھی اور وہ اس پر بیٹھ گئے، پھرمیں نے ان سے ابن زیاد کی یہ تاخیر ذکر کی، انہوں نے جواباً اپنے ہونٹ پر کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا اور انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا تھا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرے سوال کی طرح سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ران پر مارا تھا جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا، لیکن اگر تو ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز کو پا لے تو پھر نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے میں نہیں پڑھتا۔
حدیث نمبر: 2687
عَنْ أَبِي أُبَيِّ بْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي؟ قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے، جن کو دوسرے امور نمازوں سے مشغول کردیں گے یہاں تک کہ وہ اِن کو ان کے اوقات سے مؤخر کر دیں گے، (ایسی صورت میں) تم لوگ نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اورپھر ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل قرار دینا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! پھر اگر میں ان کے ساتھ نماز پالوں تو (دوبارہ) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے (تو پڑھ لینا)۔
حدیث نمبر: 2688
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ نُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَٰذَا هُوَ الصَّوَابُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی مروی حدیث میں ہے: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پھر ہم ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد علیہ السلام ) نے کہا: اور یہ ہی بات درست ہے۔