کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2674
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ’’وَفِي لَفْظٍ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ‘‘))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اقامت کے بعد فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: مگر وہ نماز جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 2675
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2676
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ: ((بِأَيِّ صَلَاتِكَ احْتَسَبْتَ بِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ أَوْ صَلَاتِكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبح کی نماز کھڑی کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) اس سے پوچھا: تو نے کون سی نماز کو فرض نماز سمجھا ہے، اکیلی نماز کو یا اس نماز کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 2677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلِ وَقَدْ أُقِيمَ فِي الصَّلَاةِ ’’وَفِي رِوَايَةٍ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ‘‘ وَهُوَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: ((يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ اقامت کہہ دی گئی تھی، اور وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کچھ فرمایا، لیکن ہم نہ سمجھ سکے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اس آدمی کو گھیر لیا اور اسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیا فرمایاتھا؟ اس نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا کہ قریب ہے کہ تم میں سے کوئی ایک فجر کی نماز کی چار رکعت پڑھنی شروع کردے ۔
حدیث نمبر: 2678
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي يُطَوِّلُ صَلَاتَهُ أَوْ نَحْوَ هَٰذَا بَيْنَ يَدَيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَجْعَلُوا هَٰذِهِ مِثْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، اجْعَلُوا بَيْنَهُمَا فَصْلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ نماز فجر سے پہلے طویل نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اس نماز کو ظہر کی طرح نہ بنا دو، بلکہ اِن دو کے درمیان فاصلہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 2679
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (يَعْنِي الصَّلَاةَ) لَاثَ بِهِ النَّاسُ فَقَالَ: ((الصُّبْحَ أَرْبَعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مالک بن بحینہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی، لیکن اس نے فجر کی دو سنتیں پڑھنا شروع کر دیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے نماز فجر کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 2680
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَابْنُ الْقِشْبِ يُصَلِّي، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَهُ وَقَالَ: ((يَا ابْنَ الْقِشْبِ! أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا أَوْ مَرَّتَيْنِ؟)) ابْنُ جُرَيْجٍ يَشُكُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے اور سیّدنا ابن قِشب نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابن قِشب! کیا تو صبح کی نماز چار رکعت یا دو دفعہ پڑھ رہا ہے؟ یہ شک ابن جریج کو ہوا۔
حدیث نمبر: 2681
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: ((أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:صبح کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، ایک آدمی کھڑا ہوا اوردو سنتیں پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کے کپڑے کے ذریعے کھینچا اورفرمایا: کیا تو صبح کی نماز کی چار رکعت پڑھ رہا ہے۔