کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
حدیث نمبر: 2672
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ هَٰذَا الَّذِي رَكَعَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟)) فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جب سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے صف کے پیچھے سے ہی (نماز شروع کر کے) رکوع کر لیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون آدمی تھا، جس نے پہلے رکوع شروع کیا اور پھرچل کر صف میں شامل ہوا؟ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2673
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ السَّاعِي؟)) قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔