حدیث نمبر: 2663
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ حَتَّى تَكَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ، فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ نماز اس وقت تک کھڑی نہ کی جاتی تھی جب تک ہم صفوں کو مکمل نہ کر لیتے تھے، جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 2664
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ’’وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ‘‘ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو اور سکون کو لازم پکڑو۔
حدیث نمبر: 2665
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے اور نماز کی طرف نہ آئے، حتیٰ کہ لوگ سونا شروع ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2666
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ أَوْ كَادَ يَنْعُسُ بَعْضُ الْقَوْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے، (اور نماز کے لیے نہ آئے) حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے یا قریب تھا کہ وہ اونگھنے لگ جائیں۔
حدیث نمبر: 2667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا (وَفِي رِوَايَةٍ: قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے ۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔