کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2636
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى هَٰذِهِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرَ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّهَا الْمُقَدَّمُ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأَزُرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میں دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
وضاحت:
فوائد: … ’’بری صف‘‘ سے مراد اجرو ثواب سے کمی والی بات ہے۔
حدیث نمبر: 2637
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف اگلی ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بری ترین صف اگلی ہے اور ان کی بہترین صف پچھلی ہے۔
حدیث نمبر: 2638
(وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ) ثُمَّ قَالَ: ((يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأَزُرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
حدیث نمبر: 2639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ فَاِنِّیْ أَرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِ ظَھْرِیْ۔)) وَکَانَ أَحَدُنَا یُلْزِقُ مَنْکِبَہٗ بِمَنْکِبِ صَاحِبِہٖ وَقَدَمَہٗ بِقَدَمِہٖ)) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ ہم (صف میں اپنے ساتھ کھڑے) ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور پاؤں کے ساتھ پاؤںملاتے تھے۔ (بخاری: ۷۲۵)
حدیث نمبر: 2640
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 2641
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ: ((تَرَاصُّوا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا الصُّفُوْفَ وَ حَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَ سُدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوْا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (ابوداود) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر کرو، خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے (صف میں) خالی جگہیں مت چھوڑو، جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا‘‘۔
حدیث نمبر: 2642
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَهِمْنَاهُ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ فَإِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس زمانے میں لوگوں بلکہ قریبی رشتہ داروں میں بہت زیادہ منافرت اور دشمنی پائی جا رہی ہے، اس کی ایک وجہ دورانِ جماعت صفوں کو درست نہ کرنا ہے۔ امام البانی رقمطراز ہیں: سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا، گھٹنے کے ساتھ گھٹنا اور ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملاتا تھا۔یہ دو احادیث ِ مبارکہ درج ذیل اہم فوائد پر مشتمل ہیں:
حدیث نمبر: 2643
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيُؤْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخواہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اِس ’’تاخیر‘‘ سے مراد کیا ہے؟ درج ذیل روایت کا جائزہ لیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ فِیْ النَّارِ۔)) یعنی: ’’لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے، یہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو آگ میں پیچھے چھوڑ دے گا۔‘‘ (ابوداود: ۶۷۹)
حدیث نمبر: 2644
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَكَانَ يَقُولُ: ((لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ))، وَكَانَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2645
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ))، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَأَانَا حِلَقًا فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ))، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟))، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: ((يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوْلَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … آج کل جن مساجد میں دو دو مقتدیوں کے درمیان سات آٹھ آٹھ انچ کا فاصلہ ہونے کے باوجود جو ائمہ و خطباء خاموش رہتے ہیں، بلکہ لوگوں کو ایسی ہی صف بنانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کو عربی لغت کی روشنی میں اس حدیث ِ مبارکہ کے آخری الفاظ پر غور کرنا چاہیے کہ ’’وَیَتَرَاصُّوْنَ‘‘ کا کیا معنی ہے۔ اس لفظ کا مادہ ’’ر َصّ‘‘ ہے، جس کا معنی ہے: ایک دوسرے سے ملنا، جڑنا، دانتوں کا ترتیب کے ساتھ ملا ہوا ہونا، چمٹنا، پیوست ہونا، اس باب سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو ’’بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ اور مضبوط اور پختہ چیز کو ’’رَصِیْص‘‘ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2646
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوهُكُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَكُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا پھر تمہارے چہروں کی صورتیں تبدیل کر دی جائیں گی اور تم ضرور اپنی آنکھوں کو بند کر و یا تمہاری آنکھوں کو ضرور اچک لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2647
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ صف کے شگاف کو پر کرنے والے
حدیث نمبر: 2648
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوفِ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’ان کو قریب قریب کرو‘‘ کا معنی یہ ہے کہ دو صفوں کے درمیان کا فاصلہ ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، ایک صف دوسری صف سے زیادہ دور نہ ہو۔ ’’حَذَف‘‘:کالی چھوٹی بھیڑیں جن کے نہ بال ہوں، نہ دم اور نہ کان۔جب بعض مساجد میں اس قسم کی احادیث بیان کی جاتی ہے کہ صف کے خلا میں شیطان گھس جاتے ہیں، تو بعض لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ مسجد میں شیطان کہاں سے آ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جب صحابہ کرام مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہاں تو رہ جانے والے شگاف میں شیطان پہنچ جاتا تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر یہ نسخہ بتایا کہ دو مقتدیوں کے درمیان کوئی خلا اور شگاف نہیں ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 2649
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2650
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَاءِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں، جیسے اپنے آگے دیکھتا ہوں، اس لیے اپنی صفوں کو سیدھا رکھا کرو اوررکوع و سجود کو اچھے انداز میں ادا کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ نماز میں مقتدیوں کے حالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آتے تھے۔
حدیث نمبر: 2651
(وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَحْسِنُوا إِقَامَةَ الصُّفُوفِ فِي الصَّلَاةِ، خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ فِي الصَّلَاةِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا: نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا رکھا کرو، نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی ہے او ران کی بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی نماز میں بہترین صف آخری ہے اور ان کی بد ترین صف پہلی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے یہ تاویل گزر چکی ہے کہ بدترین صف سے مراد وہ صف ہے، جس میں اجر و ثواب کم ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2652
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سَوُّوا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَتِمُّوا) صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کرواور ((ایک روایت کے مطابق)) مکمل کرو،پس بے شک صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا واضح طور پر یہ مفہوم ہے کہ صف میں نقص سے نماز میں کمی لازم آئے گی۔
حدیث نمبر: 2653
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 2654
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا، قَالَ مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَٰذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ، فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا فَيَقُولُ: ((اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مصعب بن ثابت کہتے ہیں: امام کے مقام کے پاس ایک لکڑی تھی، ہم نے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم کرنا چاہا، لیکن ہمیں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو اس کے بارے میں کچھ بتلا سکے۔ پھر مقصورہ والے محمد بن مسلم نے مجھے بتلاتے ہوئے کہا: ایک دن سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھے اور کہا: کیا تو جانتا ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی؟ حالانکہ میں نے اس کے بارے ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اس کو کیوں بنایا گیا۔ پھر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس پر اپنا ہاتھ رکھتے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: کَانَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اَخَذَہٗ بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) ثُمَّ اَخَذَہٗ بِیَسَارِہٖ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) یعنی: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور (مقتدیوں کی طرف) متوجہ ہو کر فرماتے: ’’برابر ہو جاؤ، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔‘‘ پھر اس کو بائیں ہاتھ میں پکڑتے اور فرماتے:
حدیث نمبر: 2655
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔
وضاحت:
فوائد: … مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ بالترتیب پہلی صفوں کو مکمل کرتے جائیں۔
حدیث نمبر: 2656
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں، جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔یہ تھیں صف بندی کے بارے میں مسند احمد کی روایات، اب ہم سلسلہ صحیحہ کی اس موضوع سے متعلقہ ایسی روایات ذکر کریں گے، جو مسند احمد میں نہیں ہیں اور ان کے ساتھ امام البانی کے تاثرات کا تذکرہ بھی ہو گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَدَّ فُرْجَۃً بَنَی اللّٰہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَرَفَعَہٗ بِھَا دَرَجَۃً۔)) یعنی: ’’جس نے (صفّ کے) شگاف کو پُر کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔‘‘ (صحیحہ:۱۸۹۲، الأمالی للمحاملی: ق ۳۶/۲، الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱/ ۳۲/ ۲نحوہ)