حدیث نمبر: 2631
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوَّلَ يَوْمٍ وَضِعَ فَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا فَعَلْتُ هَٰذَا لِتُؤْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي))، فَقِيلَ لِسَهْلٍ: هَلْ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْهُ الَّذِي كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جس دن منبر بنایا گیا تھا، اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں نیچے اتر آئے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، پھر نیچے لوٹ آئے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری اقتداء کرواور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ کسی نے سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ تنے کا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں بعض باتیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا، وہ واقعی ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ ایک دکان پر کھڑے تھے، سیّدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کی قمیص سے پکڑ کر (نیچے) کھینچا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: کیا تو جانتا نہیں ہے کہ لوگوں کو ایسی صورت سے منع کیا جاتا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تھا تو مجھے یہ چیز یاد آ گئی تھی۔ (ابوداود: ۵۹۷)