حدیث نمبر: 2627
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِقَوْمِهِ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ الرِّجَالَ ثُمَّ صَفَّ الْوِلْدَانَ ثُمَّ صَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انھوں نے مردوں کی صف بنائی، اس کے بعد بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی۔
حدیث نمبر: 2628
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور یتیم، جو ہمارے گھر میں رہتا تھا، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 2629
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ))، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا، قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے لیے گھر میں بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد فرمایا: اٹھو، میں تم کو نماز پڑھا تا ہوں۔ میں ایک چٹائی لانے کے لیے اٹھا، جو لمبے عرصہ تک استعمال کیے جانے کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں اور یتیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے۔
حدیث نمبر: 2630
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا، قَالَ: فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، ہم نے ایک چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … صف بندی کے معاملے میں یہ تو واضح ہے کہ امام کے ساتھ پہلی صفوں میں مرد حضرات کھڑے ہوں اور ان میں عقلمند اور سمجھدار لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں اور عورتیں پچھلی صفوں میں کھڑی ہوں۔ بچوں کا محل کیا ہے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کا تعین نہیں کیا گیا، ظاہر تو یہی ہے کہ جو بچے سن تمیز تک پہنچ چکے ہوں تو اس معاملے میں ان کو مردوں کا ہی حکم دیا جائے گا، بلکہ ان میں سے قرآن کا زیادہ حصہ یاد کرنے والوں کو مردوں کا امام بھی بنایا جائے گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بچہ ہوتا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام مرد کی طرح اپنی دائیں جانب کھڑا کرتے تھے اور بچوں