حدیث نمبر: 2612
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا، صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةٍ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجْلِ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2613
(وَعَنْهُ أَيْضًا) وَقَدْ سُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَٰذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي سَفَرٍ وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ صِفَةُ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ: قَالَ: ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، … پھر لمبی حدیث بیان کی … ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔
حدیث نمبر: 2614
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہونے والا مسئلہ تو واضح ہے کہ امام اپنی رعایا میں سے کسی فرد کی اور فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہم ’’بَابُ مَا یُفْعَلُ اِذَا لَمْ یَحْضُرْ اِمَامُ الْحَیِّ‘‘ (قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے، اس کا بیان) میں درج بالا حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر مقرر امام وقت پر نہ پہنچے اور بظاہر اس کے پہنچنے کے آثار نظر نہ آ رہے ہوں تو کوئی اور آدمی نماز پڑھا سکتا ہے۔ عام طورپرصحابہ کرام نما ز کا وقت ہو جانے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے، لیکن اس موقع پر انتظار نہ کرنے کی یہ وجہ نظر آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے میں دیر ہو گئی، صحابہ نے سفر کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ انتظار کرنا مناسبت نہ سمجھا اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اس کام کی تائید فرمائی اور ایسی صورت میں رعایا میں سے کوئی نماز پڑھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔