کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2609
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا هَؤُلَاءِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟)) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ((أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟)) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ، قَالَ: ((فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي، وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگو!کیا تم جانتے نہیں کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی اطاعت سے ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت سے ہے کہ تم اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2609
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5450، وابن حبان: 2109، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 13238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5679»
حدیث نمبر: 2610
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَأَانَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا وَائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنَّ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2610
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 413 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14644»
حدیث نمبر: 2611
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ))، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ))، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ مشورہ دینے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’صَوَاحِبَاتُ یُوْسُف‘‘ کہنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ تفصیل حدیث نمبر(۱۲۷۲) میں دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2611
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3384، ومسلم: 418 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061، 25258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25772»