کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 2606
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو! صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل والے سال بھیجا تو سخت سردی والی رات کو مجھے احتلام ہو گیا،مجھے یہ خطرہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو نمازِ فجر پڑھائی۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تو نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے احتلام ہو گیا تھا اور سخت سردی والی رات تھی، مجھے یہ ڈر ہونے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد آ رہا تھا: اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہمیشہ سے بہت رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھا دی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور کچھ نہ کہا: