کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2604
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کو عشاء پڑھاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازِ عشاء ادا کرتے، پھر وہ جا کر اپنی قوم کو یہی نماز پڑھاتے تھے۔ اس حدیث سے لازمی طور پر یہ ثابت ہوا کہ نفلی نماز ادا کرنے والے امام کی اقتداء میں فرضی نماز ادا کی جا سکتی ہے، یعنی ایسی صورتوں میں امام اور مقتدی کی نیتوں میں فرق آ سکتا ہے، دوسری احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مفترض کی اقتداء میں متنفل کا نماز پڑھنا بھی درست ہے۔ اسی طرح مسافر اور مقیم بھی ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، مقیم کی اقتداء میں مسافر پوری نماز پڑھے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۱۳) اور(۱۲۱۷) میں وضاحت ہو
حدیث نمبر: 2605
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَهُ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ: ((صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفَرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں اٹھارہ دن قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس موقع پر دو رکعت (یعنی قصر نماز) ہی ادا کرتے رہے، اور آپ شہر والوں (مقیم لوگوں) کو فرماتے تھے: تم چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔