کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا هِشَامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ حِينَ جَلَسَ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، (قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي: أَرَمَّ السُّكُوتُ) قَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا، لِحِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَاللَّهِ! إِنْ قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْعَكَنِي بِهَا، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُّ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: ((أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيُؤُمَّكُمْ أَقْرَأُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ))، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ))، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، الْسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، الْسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حطان بن عبد اللہ رقاشی کہتے ہیں: سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو ایک نماز پڑھائی، جماعت میں سے ایک آدمی نے بیٹھتے وقت کہا: نماز کو نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، جب سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو لوگوں پرمتوجہ ہوئے اور کہا: فلاں فلاں بات کس نے کہی ہے؟ لوگ خاموش رہے۔ (ابوعبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا اَرَمَّ کے معانی خاموشی کے ہیں۔) تو انھوں نے حطان بن عبد اللہ سے کہا: اے حطان! شاید تو نے ہی یہ بات کہی ہو؟ انھوں نے جواباً کہا:اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی، ہاں مجھے یہ ڈر ضرور تھاکہ آپ مجھے ڈانٹیں گے۔ اتنے میں ایک آدمی نے کہا: میں نے یہ کلمہ کہا تھا اور میرا ارادہ تو خیر وبھلائی کا ہی تھا۔سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں علم نہیں کہ تم اپنی نماز میں کیا کہتے رہتے ہو، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جس میں ہمارے دین کے معاملات کی تعلیم دی اور نماز کا طریقہ واضح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کیا کرو، جسے زیادہ قرآن مجید یاد ہو، وہ امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اورجب وہ {وَلَاالضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے، پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو،پس بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھاتا ہے، یہ (امام کا پہلے جانا) تمہارا (تاخیر سے اٹھنے کے) بدلے ہے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو، اللہ تمہاری بات سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فرمایا ہے اور جب امام تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم تکبیر کہہ کر سجدہ کرو، پس بے شک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ (اُس کا پہلے جانا) تمہارے اس (تاخیر سے اٹھنے) کے بدلے میں ہے۔ جب نمازی قعدہ میں ہو تو وہ سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، … اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ (تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں صرف اللہ کے لیے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2595
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 404 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19899»
حدیث نمبر: 2596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَفِي أُخْرَى: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ) وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے تم اس پر اختلاف نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہہ لے تو تم تکبیر کہو اور تم اس وقت تک تکبیر نہ کہو جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے، اسی طرح جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہ کرے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو، ایک روایت میں اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور ایک میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ہے، جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2596
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 734، مسلم: 415، 417 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7144، 8502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8483»
حدیث نمبر: 2597
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ ثُمَّ نَسْجُدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، تو اس وقت تک ہم میں سے کوئی بھی سجدے کے لیے اپنی کمر کو ٹیڑھا نہ کرتا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے، پھر ہم سجدہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2597
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 711، 747، ومسلم: 474 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18511، 18710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18917»
حدیث نمبر: 2598
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: ((مَنْ فَعَلَ هَٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا، فَقَالَ: ((اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے رکوع کر دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اٹھ جاتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: اس طرح کرنے والا کون تھا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تھا، میں یہ جاننا پسند کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے نقصان سے بچا کرو،جب امام رکوع کرے تو تب رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تب تم سر اٹھایا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2598
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر الحنفي اليمامي، وعبد الله بن عصمه (او عُصْم) الحنفي ممن لايحتمل تفرده، ومتابعة الامام في الصلاة لھا شواھد أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11407»
حدیث نمبر: 2599
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالْقُعُودِ وَلَا بِالْانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: ((رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ))، زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! بے شک میں تمہارا امام ہوں، اس لیے رکوع و سجود ، قیام و قعود اور سلام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، میں تم کو اپنے آگے سے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تم ہنسنا تھوڑا کر دو اور رونا زیادہ کر دو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نماز پڑھنے پر ابھارا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2599
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 426 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12020»
حدیث نمبر: 2600
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا جو شخص اپنا سر اٹھا لیتا ہے، جبکہ امام سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2600
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 691، مسلم: 426، 427 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7534، 9884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7525»
حدیث نمبر: 2601
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ، لیکن اس سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے، کیا وہ اس بات سے بے خوف ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت کو گدھے کی صورت میں تبدیل کردے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2601
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7526»
حدیث نمبر: 2602
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقُكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقُكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُّ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رکوع و سجود میں مجھ سے آگے نہ بڑھو، اگر میں رکوع کرتے وقت تم سے آگے بڑھتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا، اسی طرح اگر میں سجدہ میں تم سے آگے بڑھ جاتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا،بیشک اب میں بڑی عمر والا ہو گیا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2602
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 619، وابن ماجه: 963 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16963»
حدیث نمبر: 2603
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يَخْطُبُ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ (بْنُ عَازِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَسْجُدَ ثُمَّ يَسْجُدُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن یزید انصاری نے اپنے خطبے میں کہا: سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی اور وہ جھوٹے نہیں ہیں (یعنی سچے ہیں) کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ (سب صحابہ) کھڑے رہتے، یہاں تک کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے، پھر وہ سجدہ میں جاتے ۔
وضاحت:
فوائد: ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ امام کی متابعت کرنا فرض ہے اور کسی رکن کی ادائیگی میں سے اس سے آگے بڑھنا ناجائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2603
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 711، 747، ومسلم: 474 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18705»