کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان¤اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
حدیث نمبر: 2590
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اسْتَكْأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ! وَاللَّهِ! مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن الحارث کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے یا ویسے غائب تھے، اس لیے سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدوں سے سر اٹھاتے وقت، سجدے کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا۔ جب انھوں نے اس طریقے پر نماز مکمل کی تو کسی نے کہا: لوگ تمہاری نماز سے اختلاف کر رہے ہیں، (یہ سن کر) وہ تشریف لائے اور منبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا: لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نماز اس سے مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 825 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11157»
حدیث نمبر: 2591
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ … الحَدِيث
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2591
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 413 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14644»