کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
حدیث نمبر: 2586
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فِيمَا فَعَلْتَ أَمِ ابْتَدَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ يَأْتِنِي أَمْرٌ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ أَبْتَدِعْ، وَلَكِنْ أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک دفعہ ولید بن عقبہ نے نماز کو مؤخر کیا، سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، نماز کے لیے اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا، کیا امیر المؤمنین (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) کی طرف سے کوئی حکم ملا ہے یا تم نے خود یہ نیا کام شروع کر دیا ہے؟ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ مجھے امیر المؤمنین کا کوئی حکم موصول ہوا ہے اور نہ میں نے کوئی نیا کام شروع کیا ہے، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس چیز کا انکار کرتے ہیں کہ ہم تیری نماز کا انتظار کرتے رہیں اور تو اپنے کام میں لگا رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2586
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 3/ 124، وعبد الرزاق: 3790، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9500 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4298»