کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد¤نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
حدیث نمبر: 2580
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَقَالَ: ((يَا بِلَالُ! إِنْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ))، قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ (وَفِي رِوَايَةٍ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ) ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ بِهِمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَوْهُ صَفَّحُوا وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ، الْتَفَتَ فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنِ امْضِهْ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً، فَحَمِدَ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: ((يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ))، وَفِي رِوَايَةٍ أَنْ تَمْضِيَ فِي صَلَاتِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: ((إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ))، وَفِي رِوَايَةٍ وَلْيُصَفِّقِ النِّسَاءُ، وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَأَنْتُمْ لِمَ صَفَّحْتُمْ؟)) قَالُوا: لِنُعْلِمَ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: ((إِنَّ التَّصْفِيحَ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنی عمرو بن عوف قبیلے کے ما بین کوئی لڑائی ہوگئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کے پاس گئے اور فرمایا: بلال، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر کو حکم دینا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب عصر کا وقت ہوا تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ،پھر اقامت کہی اور سیّدنا ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ پس وہ آگے بڑھے (اور نماز شروع کی)، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو تالیاں بجانا شروع کردیں، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو چیرتے ہوئے آئے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب نماز میں داخل ہوتے تو کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس دفعہ جب انھوں نے سوچا کہ تالیاں رک نہیں رہیں تو وہ پیچھے متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں، سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر تو ٹھہرے رہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے ا ٓ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اورلوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تم کو اشارہ کر دیا تھا توتم کو نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کروائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تم کو نماز میں کوئی امر لاحق ہو جائے تو مرودں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اورعورتوں کو تالی بجانا چاہئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے تالیاں کیوں بجائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (آپ کی آمد کا) بتانا چاہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7190، ومسلم: 421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22816، 22817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23205»
حدیث نمبر: 2581
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ))، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ، وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحَةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ تَأَخَّرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَانَكَ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السُّورَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراءت شروع کر دی، جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، قيس بن ربيع مختلف فيه راوي هے، اس كي حديث شواهد ميں حسن هے اور يه ان ميں سے ايك هے، ليكن حقيقت حال يه هے كه اس حديث كے سند كے دو راوي قيس بن ربيع اور ارقم بن شرحبيل جمهور اهل علم كے نزديك ضعيف هيں، اس ليے اس حديث كا آخري جمله منكر هي رهے گا، جو كه يه هے: آپa نے سورت كے اس مقام سے قراء ت شروع كر دي، جهاں ابو بكر bپهنچے تھے۔ أخرجه مختصرا البزار: 1566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1785»
حدیث نمبر: 2582
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْآيَةِ الَّتِي انْتَهَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں، پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راحت محسوس کی، اس لیے (مسجد میں) تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ اپنے مقام پر ہی رہیں)۔ پھر آپ آئے اور سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور اس آیت سے تلاوت شروع کر دی، جہاں سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2582
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه ضمن قصة مرض النبيV الذي توفي فيه: 1235 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2055، 3330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2055»
حدیث نمبر: 2583
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ، قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُؤَتَّمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُؤَتَّمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے رہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر نے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے قراءت شروع کی، جہاں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2583
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3355»
حدیث نمبر: 2584
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَهُ (وَفِي لَفْظٍ) كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُؤَتَّمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُؤَتَّمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت میں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور لوگ اُن کے پیچھے تھے ۔ ایک روایت میں ہے : سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر رہے تھے ۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2584
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطوّلا و مفصلا و بالفاظ مختلفة متقاربة البخاري: 664، 687، ومسلم: 418 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25761، 26113، 26137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: انظر: 26642»