کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2558
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں نماز کو سب سے زیادہ مکمل کرنے والے بھی تھے اور اس میں تخفیف کرنے والے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 2559
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں لوگوں میں سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن آپ کی نماز مکمل بھی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 2560
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً أَخَفَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي تِمَامِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد (کسی ایسے شخص کے پیچھے) نماز نہیں پڑھی جو رکوع و سجود کی تکمیل کے ساتھ ساتھ زیادہ تخفیف کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 2561
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ صَبِيٍّ فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ میں اس کو لمبا کروں گا، لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تواس میں تخفیف کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے گی۔
حدیث نمبر: 2562
(وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْبَدْرِيَّ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِيِّ وَفِي أُخْرَى الْكِنْدِيَّ، فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نمازِ فجر کو مختصر کر کے پڑھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو ئے تو) کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز میں اتنی تخفیف کیوں کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بچے کے رونے کی آوازسنی، جبکہ مجھے یہ گمان بھی تھا کہ اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو گی، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بچے کے لیے اس کو جلدی فارغ کر دوں۔
حدیث نمبر: 2564
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ الصَّلَاةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں بچے (کے رونے) کی آواز سنی، اس وجہ سے نماز کو مختصر کر دیا۔
حدیث نمبر: 2565
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَٰذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ پایا ہے، انھوں نے یہ بات عمر بن عبد العزیز کے حق میں کہی تھی، وہ اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور وہ لمبی قراءت نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2566
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَلَا يُطِيلُ فِيهَا وَلَا يُخَفِّفُ، وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو اس کو لمبا کرتے تھے اور نہ بالکل تخفیف کرتے تھے۔ بلکہ اس کے درمیان درمیان (پڑھاتے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشاء کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2567
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِـ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نمازِ فجر پڑھاتے تو طلوع آفتاب تک اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں سورۂ ق کی تلاوت کرتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز مختصر ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْبَدْرِيَّ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِيِّ وَفِي أُخْرَى الْكِنْدِيَّ، فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع بن سرجس کہتے ہیں: ہم نے سیّدنا ابو واقد بکری یا بدری یا کندی رضی اللہ عنہ کی مرض الموت میں ان کی عیادت کی، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں لوگوں پر سب سے زیادہ تخفیف کرنے والے تھے، لیکن اپنی اکیلی نماز کو سب سے لمبا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2569
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُصَلِّ خَلْفَ إِمَامٍ كَانَ أَوْجَزَ مِنْهُ صَلَاةً فِي تَمَامِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مالک بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نماز میں زیادہ تخفیف کرنے والا ہو، جبکہ اس کے رکوع و سجود بھی پورے ہوں۔
حدیث نمبر: 2570
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيُؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز میں تخفیف کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ خود سورۂ صافات کی قراءت کر کے ہماری امامت کراتے تھے۔
حدیث نمبر: 2571
عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجَاوَزَ فِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو خالد کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور اس میں کافی تخفیف کی، میں نے ان کو کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بھی اسی طرح ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی۔
حدیث نمبر: 2572
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَكُمْ؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزَ، قَالَ: وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ان کا باپ کہتا ہے: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم لوگوں کو اس طرح نماز پڑھاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا: تو نے میری نماز میں سے کس چیز کا انکار کیا ہے؟ میں نے کہا:میں آپ سے اِس (تخفیف) کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی، (یوں سمجھیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ جتنا مؤذن کو مینار سے اتر کر صف میں ملنے کا وقت لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 2573
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسٍ وَكَانَ قَيْسٌ لَا يُطَوِّلُ، قَالَ: قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَوْجَزُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند )اس کا باپ ابو خالد کہتا ہے: بے شک سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں ان کو اس طرح نماز پڑھاتے، جیسے قیس پڑھاتا تھا، جبکہ یہ قیس نماز کو لمبا نہیں کرتا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے؟ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، بلکہ آپ کی نماز اس سے بھی زیادہ مختصر ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 2574
عَنْ حَيَّانَ (يَعْنِي الْبَارِقِيَّ) قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّ إِمَامَنَا يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَكْعَتَانِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَفُّ أَوْ مِثْلُ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ هَٰذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ہمارا امام تو لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی دو رکعتیں اس امام کی ایک رکعت کے برابر یا اِس سے بھی ہلکی ہوتی تھیں۔